52

اوگرا کی غلطی سے آر ایل این جی صارفین کو 350 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑے گا

اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے گیس کمپنیوں کو ری گیسیفائڈ لیکوئیفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کے صارفین سے 6 سے 7 فیصد اضافی نقصان اٹھانے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا جس کی لاگت پانچ سالوں میں کم از کم 350 ارب روپے ہوگی اور قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

سرکاری ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ اوگرا کے مختلف محکمے بحث کر رہے ہیں کہ اکاؤنٹنگ اور انضباطی غلطیوں کی اصلاح کیسے کی جائے جو کابینہ کے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے 2016 کے فیصلے کو سمجھنے میں غلطی اور عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے سامنے آئی۔

اوگرا کے کورم کی عدم دستیابی کی وجہ سے معاملہ قانونی طور پر چیلنجنگ بن گیا ہے۔

اس کے نتیجے میں آر ایل این جی اسٹیک ہولڈرز کے لیے ماہانہ قیمتوں کا نوٹیفکیشن ہر ماہ کے پہلے ہفتے میں معمول کے مطابق جاری کیے جانے کے بجائے روک دیا گیا ہے۔

اوگرا کے دو متعلقہ محکمے، گیس اور فنانس، اس غلطی کا الزام ایک دوسرے پر عائد کررہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گیس کمپنیاں، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ، آر ایل این جی کے لئے 4 فیصد سے بھی کم کے کم نقصانات کا دعوی کرتی رہی ہیں لیکن انہیں تقریبا 11 فیصد نقصانات کا فائدہ دیا گیا۔

نقصان میں کمرشل سی این جی، بجلی گھر اور آر ایل این جی استعمال کرنے والے بلک صارفین ہیں۔

ریکارڈ میں بتایا گیا ہے کہ جون 2016 کے ای سی سی کے فیصلے میں تقسیم کے نقصان کا تعین اور اصل معاوضہ لینے کا کہا گیا ہے۔ ہائی پریشر ٹرانسمیشن لائنوں کے صارفین کے ساتھ ساتھ وہ صارفین جو اپنی لائن بچھانے کے لیے خود تیار ہیں، ان کے لیے بھی یہی نقصان طے کیا جائے گا اور اصل معاوضہ لیا جائے گا۔

تاہم ڈسٹربیوشن لائنوں پر موجود دوسرے صارفین کو آخری مالی سال کے لیے ایکچوئل ایوریج کے حساب سے ان اکاؤنٹڈ فور گیس (یو ایف جی) لیا جائے گا۔

ای سی سی کے فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹرانسمیشن نقصانات اصل معاوضے پر زیادہ سے زیادہ 0.5 فیصد سے وصول کیے جائیں۔

ایس این جی پی ایل کے سال 2018-19 کے لیے حتمی ریونیو ضرورت (ایف آر آر) کے تعین کے لیے کاروائی کے دوران ‘تقسیم کے نقصان سے متعلق اوگرا کی طرف سے کوئی موثر اور معقول اقدام نہیں لیا گیا تھا’ اور جو بھی ایس این جی پی ایل نے دعوی کیا تھا وہی اوگرا کے محکمہ گیس کی طرف سے تجویز کیا گیا۔

کارروائی کے دوران ہی ممبر گیس کی جانب سے یہ نشاندہی کی گئی کہ ‘تعین’ کو درحقیقت آزاد اور گہرائی سے جائزہ لینے توثیق، تجزیہ، اصل خریداری، فروخت ، گیس کا اندرونی طور پر استعمال، مفت گیس کی سہولت، ٹوٹ پھوٹ کے خلاف دعوی کی جانے والی رقم وغیرہ کی ضرورت ہے اور تقسیم اور ٹرانسمیشن کے نقصان کی اصل رقم اوگرا کے پیشہ ور افراد کے ذریعہ آزادانہ طور پر طے کی جانی چاہیے جس کے بعد اس کا تعین کیا جاسکتا ہے۔

ممبر گیس نے بتایا کہ جولائی کے مہینے میں آر ایل این جی کی عارضی قیمتوں کا حساب کتاب، جس میں ایس ایس جی سی ایل کے لیے 17.83 فیصد اور ایس این جی پی ایل کے لیے 11.45 فیصد نقصانات درست نہیں تھے۔

مقامی گیس کے لیے زیادہ سے زیادہ 5 فیصد پلس 2.5 فیصد یو ایف جی کا بینچ مارک موجود ہے جب کہ ‘اصل یو ایف جی کی غلط ترجمانی اور غلط تعین’ کی وجہ سے درآمد شدہ آر ایل این جی جو کہ دوسری صورت میں پہلے ہی مہنگا ہے، کو نام نہاد اصل یو ایف جی کہنے کی اجازت دی گئی ہے، جس سے یہ 100 سے 115 روپے فی ایم ایم سی ایف ڈی مہنگا ہوگا۔

حال ہی میں اوگرا نے سال 2018-19 کے لیے ایف آر آر میں مقامی گیس پر 6.92 فیصد یو ایف جی کی اجازت دی تھی جبکہ اسی سال کے لیے آر ایل این جی پر یو ایف جی ایس این جی پی ایل کو 11.45 فیصد پر دیا جارہا تھا۔

دوسری جانب اوگرا سال 2017-18 کے لیے ایف آر آر میں مقامی گیس پر یو ایف جی کے 6.91 فیصد کی اجازت دے رہی ہے جبکہ اسی سال کے لیے آر ایل ین جی پر یو ایف ایگ ایس ایس جی سی ایل کو 17.83 فیصد میں دی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں