پاکستان

کوئٹہ دھرنا، ‘عمران خان صاحب، کیا آپ کی انا اِن لاشوں سے بڑی ہے؟’

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز مچھ واقعے کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لیے کوئٹہ میں جاری ہزارہ برادری کے دھرنے میں شریک ہوئے۔
جمعرات کو دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ‘مچھ میں کان کنوں کو انتہائی بے دردی سے قتل کیا گیا۔’
انہوں نے کہا کہ ‘یہاں ایک بچی کسی بے حس کو پکار رہی تھی کہ جب تک آپ نہیں آئیں گے ہم اپنے پیاروں کو نہیں دفنائیں گے۔’
انہوں نے کہا کہ ‘میں اختلافات بھلا کر عمران خان سے کہتی ہوں کہ خدارا یہاں آؤ، ریاست کا کام عوام کا تحفظ اور ذمہ داری ہے۔’
‘میں عمران خان سے کہتی ہوں کہ کیا ان لاشوں سے آپ کی انا بڑی ہے؟ ہم سیاست نہیں کر رہے لیکن آپ اپنی بے حسی کو سیاست سیاست کہہ کر ٹال نہیں سکتے۔’
انہوں نے کہا کہ ‘آکر ان کے سروں پر ہاتھ رکھیں تاکہ یہ اپنے پیاروں کی لاشوں کو دفنا سکیں۔’
مریم نواز نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں عمران خان سے کہتی ہوں کہ وہ بھی ایک والد ہیں، بہنوں کے بھائی ہیں، آپ کے بھی بچے ہیں، اللہ تعالٰی آپ کے بچوں کو سلامت رکھے۔ اپنے بچوں کو ذہن میں رکھ کر ان بچوں کا احساس کریں۔’
‘آپ کو یہاں آنا پڑے گا، یہ آپ سے کوئی بڑی چیز نہیں مانگ رہے، آپ تنقید کے ڈر سے نہیں آرہے، کوئی بات نہیں تھوڑی سی تنقید سن لیں۔’
ان کا کہنا تھا کہ ‘آپ کا فرض ہے کہ ان کے غم میں شریک ہوں، ان کا دُکھ درد بانٹیں، اقتدار کی کرسی پربیٹھے شخص کی بے حسی پر بہت افسوس ہے۔’
مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے کہا کہ ‘میں حکومت میں نہیں، آپ کے لیے سوائے آواز اٹھانے کے کچھ نہیں کرسکتی، میں ایک ماں ہوں، بیٹی ہوں مجھے آپ کی تکلیف کا احساس ہے۔

مچھ واقعے کے خلاف کوئٹہ میں ہزارہ برادری کا دھرنا پانچ روز سے جاری ہے (فوٹو: ٹوئٹر)
بلاول بھٹو زرداری نے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘وہ یہاں سیاست کرنے نہیں بلکہ ہزارہ برادری کے غم میں شریک ہونے آئے ہیں، میں دکھ اور افسوس کے ساتھ آپ کے ساتھ موجود ہوں۔’
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ‘1999 سے اب تک ہزارہ برادری کے دو ہزار افراد کی جانیں لی جا چکی ہیں لیکن کسی ایک کو بھی انصاف نہیں ملا۔’
‘ریاست نے نیشنل ایکشن پلان پرعمل درآمد کرنے اور دہشت گردی ختم کرنے کا کہا تھا، آرمی پبلک سکول کے بچوں سے دہشت گردی ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔’
انہوں نے کہا کہ ‘ہم ریاست سے اپیل کرتے ہیں کہ وطن سے محبت کرنے والوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔’
‘افسوس ہے کہ یہاں انصاف کے لیے لاشوں کو بھی احتجاج کرنا پڑتا ہے۔ بجلی، گیس اور دیگر چیزیں مہنگی ہو چکی ہیں لیکن عوام کا خون سستا ہے۔’
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ‘آپ لوگ اپنے شہیدوں کے ساتھ احتجاج کررہے ہیں، میں بھی شہیدوں کے خاندان سے ہوں، ہم بھی آج تک اپنے شہیدوں کو انصاف نہیں دلاسکے۔’

مریم نے کہا ‘میں اختلافات بھلا کر کہتی ہو کہ خدارا یہاں آٓؤ، ریاست کا کام عوام کا تحفظ اور ذمہ داری ہے۔ (فوٹو: پی ایم ایل این ٹوئٹر)
انہوں نے کہا کہ ‘جب تک زندہ رہوں گا، میری یہی کوشش ہوگی کہ غریب عوام کو جینے دیا جائے، جو ملک میں سب سے زیادہ محب وطن ہیں وہ سامنے بیٹھے ہیں، ان لوگوں کو انصاف نہیں دلوا سکے تو باقی کسی کو کیا انصاف دلوائیں گے۔
اس سے قبل ہزارہ برادری کے دھرنے میں شرکت کے لیے بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی کے وفد کے ہمراہ کراچی سے جبکہ مریم نواز لاہور سے کوئٹہ پہنچیں۔
دونوں رہنماؤں نے دھرنے کے شرکا سے خطاب سے قبل مچھ میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے افراد کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی۔
دھرنے سے خطاب میں وزیراعلٰی سندھ مراد علی شاہ نے مچھ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دہشت گردوں کو گرفتار کر کے عبرتناک سزا دے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ ‘اگر ضرورت پڑی تو ان کی پارٹی اس مسئلے پر آل پارٹیز کانفرنس بلائے گی۔’
جمعیت علمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری اور مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے بھی دھرنے کے شرکا سے خطاب کیا۔

مچھ میں 10 کان کنوں کے قتل کے خلاف کوئٹہ میں ہزارہ برادری کا دھرنا جاری ہے (فوٹو: اے ایف پی)
مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ’مولانا فضل الرحمان پر تین خود کش حملے ہو چکے ہیں جبکہ مجھ پر بھی ایک خود کش حمله ہو چکا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ‘ریاست ہزارہ برادری کے مارے گئے کان کنوں کے قاتلوں کا بے نقاب کرے۔’
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ‘مچھ میں ہر پاکستانی کی امنگوں کا خون کیا گیا۔ تعصب، نسل اور رنگ کی بنیاد پر کسی کو نشانه نهیں بنانا چاہیے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’آج دہشت گردی کی لہر اٹھ رہی ہے جبکہ حکومت نے سکیورٹی اداروں کو اپوزیشن کے پیچھے لگا دیا ہے۔ حکومت اپنی ترجیحات درست کرے۔‘
یاد رہے کہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں تین جنوری کو ایک حملے میں دس کوئلہ کان کنوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔
اس واقعے کے خلاف کوئٹہ میں ہزارہ برادری کی جانب سے گذشتہ چار روز سے میتوں کے ہمراہ احتجاجی دھرنا جاری ہے۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کوئٹہ آئیں، بصورت دیگر وہ قتل ہونے والے افراد کی تدفین نہیں کریں گے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *