33

پاکستانی نوجوانوں نے بچوں میں ’سوئی‘ کا خوف کم

اس کے لیے پہلے ڈاکٹر ابراہیم اور ان کی ٹیم نے ایک گھڑی نما آلہ بنایا جو زیادہ مؤثر نہ تھا، تاہم اس کے بعد بھی انہوں نے حوصلہ نہ ہارا اور اپنے دوسرے ڈیزائن پر کام شروع کردیا۔ اس بار انہوں نے سوئی کو نظروں سے اوجھل کرنے والی ایک شیلڈ بنائی جسے آسانی سے پہنا جاسکتا ہے۔ مریض کی سمت والے حصے پر اس پر کارٹون اور دیگر خوشگوار خاکے بنائے گئے جو بچے کو احساس دلاتے ہیں کہ یہ کوئی تکلیف دہ شے نہیں۔ مستقبل میں اس پر ای اسٹیکرز لگانے کا منصوبہ ہے۔

جبکہ اس دوران بچہ نہیں دیکھ سکتا کہ اس کے ہاتھ پر کیا کارروائی کی جارہی ہے اور پھر کسی مؤثر دوا سے سوئی لگانے والا حصہ سن کردیا جاتا ہے جس سے بچے کو مزید ان دیکھی تکلیف کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ اس ڈیزائن کو پیٹنٹ (حقِ ملکیت) دیا جاچکا ہے اور اسے بڑے پیمانے پر آزمایا بھی جارہا ہے۔

اس پورے ماڈل کو تجارتی طور پر تیار کرنے میں بھی چند روپوں کی لاگت آئے گی ۔ توقع ہے کہ اس سے بچوں میں سوئی لگوانے کا رحجان بڑھے گا اور ٹیکے کی جگہ سُن ہونے کی بنا پر اسے تکلیف کا احساس بھی نہیں ہوگا۔ بالخصوص یہ ایجاد ہنگامی حالت میں بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے  جہاں بچے کو انجیکشن لگانے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ اختراع جان بچانے میں بھی معاونت کرسکتی ہے۔

اس ایجاد کو پین فری انویزیبل نیڈل کا نام دیا گیا ہے جسے نیچر پیڈائٹرکس ریسرچ انوویشن ایوارڈ سے نوازا گیا ہے جو پاکستان کی تاریخ میں پی آر ڈی آئی کا پہلا ایوارڈ بھی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں