30

سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔

لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود تھے جبکہ خادم حسین رضوی کے جسد خاکی کو ایمبولنس کے ذریعے جنازہ گاہ لایا گیا تھا۔

اس موقع پر کچھ افراد کی جانب سے موبائل فون کے سگنل میں دشواری کی شکایات بھی موصول ہوئیں۔

خادم حسین رضوی اسی مسجد میں امامت کے فرائض بھی انجام دیتے تھے۔

19 نومبر کی دوپہر کو ان کی طبیعت بگڑی تھی جس پر انہیں شیخ زید ہسپتال لے جایا گیا تھا جہاں رپورٹس کے مطابق انہیں مردہ قرار دیا گیا تھا تاہم ان کے اہلِ خانہ انہیں نزدیکی نجی ہسپتال لے کر گئے جہاں ان کی وفات کی تصدیق کی گئی تھی۔

خادم رضوی کے انتقال پر چند لوگوں نے ان کی موت کی وجہ کووِڈ 19 کو قرار دیا تھا جبکہ دیگر نے کہا تھا کہ حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ان کی وفات ہوئی تاہم ان کے اہلِ خانہ اور ان کی پارٹی کی جانب سے باضابطہ طور پر موت کی وجہ نہیں بتائی گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں