41

ٹی ایل پی) کے انتقال کرجانے والے سربراہ علامہ خادم رضوی کی نماز جنازہ اب سے کچھ دیر بعد ادا کی جائے گی

لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود ہیں جبکہ خادم حسین رضوی کے جسد خاکی کو ایمبولنس کے ذریعے جنازہ گاہ لایا گیا ہے۔

خادم حسین رضوی کی تدفین کے حوالے سے پارٹی کے کچھ اراکین کا کہنا تھا کہ ان کی تدفین یتیم خانہ چوک میں مسجد کے احاطے میں کی جائے گی جبکہ کچھ کا مؤقف ہے کہ انہیں اسکیم موڑ کے قبرستان میں سپردخاک کیا جائے گا۔

خادم حسین رضوی اسی مسجد میں امامت کے فرائض بھی انجام دیتے تھے۔

مزید یہ کہ 19 نومبر کو تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی 54 برس کی عمر میں لاہور کے مقامی ہسپتال میں انتقال کرگئے تھے۔

ٹی ایل پی کے ترجمان حمزہ نے بتایا تھا کہ خادم حسین رضوی کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا اور گزشہ چند دنوں سے بخار تھا۔

19 نومبر کی دوپہر کو ان کی طبیعت بگڑی تھی جس پر انہیں شیخ زید ہسپتال لے جایا گیا تھا جہاں رپورٹس کے مطابق انہیں مردہ قرار دیا گیا تھا تاہم ان کے اہلِ خانہ انہیں نزدیکی نجی ہسپتال لے کر گئے جہاں ان کی وفات کی تصدیق کی گئی تھی۔

خادم رضوی کے انتقال پر چند لوگوں نے ان کی موت کی وجہ کووِڈ 19 کو قرار دیا تھا جبکہ دیگر نے کہا تھا کہ حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ان کی وفات ہوئی تاہم ان کے اہلِ خانہ اور ان کی پارٹی کی جانب سے باضابطہ طور پر موت کی وجہ نہیں بتائی گئی تھی۔

ٹی ایل پی کارکنان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے لیے ان کا متبادل تلاش کرنا مشکل وقت ہوگا، ہوسکتا ہے جلد ہی پارٹی شوریٰ کا اجلاس ہو جس میں آیا موجودہ نائب سید ظہر الاسلام حسن یا ان کے دونوں بیٹوں میں سے ایک کو اس عہدے کے لیے کیا منتخب کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ٹی ایل پی ایک سیاسی نہیں مذہنی جماعت ہے، جہاں اس کا قائد مذہبی اور روحانی رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی، مذہبی اور ذاتی اطاعت بھی رکھتا ہے، چونکہ یہ نقصان تمام کارکنان کے لیے ذاتی ہے اور اسے تسلیم کرنے اور اس سے نکلنے میں وقت لگے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں