57

بھارت ایک منتشر اور بے حال ملک ہے، اوباما کی اپنی کتاب میں بھارت پر کڑی تن

سابق امریکی صدر بارک اوباما کی نئی کتاب 17 نومبر کا شائع ہوئی اے پرومسٹ لینڈ ہے۔ اپنی کتاب میں اوباما نے بھارت میں مسلمان مخالف انتہا پسندی اور پاکسؔتان دُشمنی کے بارے میں چند اہم حقائق سے پردہ اُٹھایا ہے۔’

؎/کتاب کے صفحہ نمبر 600 اور 601 میں اوباما نے نومبر 2020ء میں بھارت کے دورے کے دوران سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سِنگھ سے ملاقات کا حوالہ دیا اور اپنی ذاتی رائے دیتے ہوئے لِکھا کہ ’’بڑھتے ہوئے مسلمان مخالف جذبات نے ہندو قوم پرست بی جے پی کے اثر کو مضبوط کیا (یاد رہے کہ اس وقت حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت بے جے پی تھی)۔

سابق بھارتی وزیراعظم کے اپنے بیان کے مطابق بھارت میں کسی غیر یقینی صورتحال میں مذہبی اور نسلی یکجہتی کے غلط استعمال سے فائدہ اُٹھانا بھارتی سیاست دانوں کے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔

اسکے علاوہ یہ بھی لکھا کہ جنونیت اور انتہا پسندی بھارتی معاشرے میں سرکاری اور نجی سطح پر بہت گہرائی تک سرایت کرچکی ہے اور پاکستان دُشمنی بھارت میں قومی یکجہتی اُجاگر کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

جبکہ بارک اوباما نے اپنی کتاب میں من موہن سنگھ کے وزیراعظم کے عہدے تک پہنچنے کی تعریف کی لیکن یہ بھی کہا کہ بھارت میں سِکھ اقلیت کو اکثر نشانہ بنایا جا تا ہے۔شیئرٹویٹشیئر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں