49

پی ڈی ایم کے وہ اراکین اب غیر ذمہ دارانہ سیاست سے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہے ہیں

وفاقی وزیر اسد عمر کی ٹوئٹ پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراعظم نے لکھا کہ ’پی ڈی ایم کے وہ اراکین جو پہلے سخت ترین بندشیں چاہتے تھے اور مجھ پر طنز و تنقید کے نشتر چلایا کرتے تھے آج لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال کر نہایت عاقبت نا اندیشانہ سیاست کر رہے ہیں۔ کیفیت یہ ہے کہ عدالتی احکامات ہوا میں اڑا کر کیسز میں نہایت تیز اضافے کے باوجود یہ جلسے پر مصر ہیں‘۔

اسد عمراور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر نے کہا تھا کہ پشاور میں گزشتہ روز کورونا وائرس کی مثبت شرح 13.39 فیصد تھی‎

انہوں نے لکھا کہ 202 مریض نگہداشت میں ہیں جس میں 50 آکسیجن کے کم بہاؤ اور 134 زیادہ بہاؤ پر ہیں جبکہ 18 وینٹی لیٹرز پر ہیں۔

انکے مطابق صرف گزشتہ روز 14 نئے مریض تشویشناک حالت میں سامنے آئے ہیں، تاہم پی ڈی ایم کا اس پر یہ ردعمل ہے کہ ’ہم اسٹیج پر محفوظ ہوں گے تو شہریوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے اس کی پرواہ کسے ہے‘۔

انہوں نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ ’مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے آزاد کشمیر میں 2 ہفتوں کے لیے مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا (وہیں) پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے کراچی کے 4 اضلاع میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کر دیا لیکن دونوں جماعتوں کا اصرار ہے کہ پشاور جلسہ ضرور ہو گا، دوغلے پن کی اس سے واضح مثال نہیں مل سکتی‘۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے یہ ٹوئٹ کورونا کیسز میں اضافے کے باوجود اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جانب سے پشاور میں جلسہ کرنے کے اعلان کے بعد ردعمل کے طور پر سامنے آیا۔

انہوں نے کہا تھا کہ اس لیے کورونا وائرس پھیلنے کے خدشے کے باعث جلسے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے ترجمان اختیار ولی نے پی ڈی ایم کو جلسے کی اجازت نہ دینے کو امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘عمران خان اور محمود خان نے کس کی اجازت سے سوات، مہمند اور باجوڑ میں جلسے کیے؟

انہوں نے کہا تھا کہ ’سلیکٹڈ حکومت سے اجازت لینے کی اب ہمیں کوئی ضرورت نہیں، پی ڈی ایم جلسے کی تیاری مکمل ہے اور جلسہ ہر صورت ہوگا‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں