51

کورونا وائرس کی دوسری لہر آنے کے بعد کورونا کے کیسز تیزی سے بڑھتے جا رہے

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک دنیا بھر میں 5 کروڑ 69 لاکھ 91ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور اب تک 13 لاکھ 62 ہزار 424 افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔

وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکا میں کورونا وائرس سے اب تک ایک کروڑ 17 لاکھ 18 ہزار سے زائد افراد وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ دو لاکھ 52 ہزار 565 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

جبکہ اعدادوشمار کے مطابق امریکا میں 19 نومبر کو ایک ہزار 962 افراد کورونا وائرس کا شکار ہو کر ہلاک اور جبکہ ایک لاکھ 87ہزار 396 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

امریکا کی تمام ریاستوں میں کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور سب جگہ ہسپتال مکمل طور پر بھر چکے ہیں جس کی وجہ سے عوام کو مستقل احتیاط برتنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔

بڑھتے کیسز، وائرس کی دوسری لہر اور سردیاں آنے کے سبب آئیووا اور ڈکوٹا کے گورنرز نے عوام کو لازمی ماسک پہننے کی ہدایت کی ہے جبکہ آہایو اور کیلیفورنیا میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

ریاست کی سطح پر مکمل اقدامات کیے جانے کے باوجود امریکا کے نومنتخب صدر جو بائیڈن نے ملک بھر میں لاک ڈاؤن نہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال نہیں کہ جس کی وجہ سے مجھے لگے کہ ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کی ضرورت پڑے، کاروبار اور دیگر سرگرمیوں کو کب اور کیسے کھولنا ہے اس کا فیصلہ ہر علاقے میں کیسز کی تعداد کے مطابق کرنا ہوگا۔

یورپ میں جرمنی میں کورونا وائرس کے کیسز ریکارڈ تعداد میں سامنے آئے ہیں اور 24 گھنٹے کے دوران مزید 23 ہزار 648 افراد وائرس کا شکار ہو گئے ہیں۔

جرمنی میں اب تک 13 ہزار 630 افراد وائرس سے ہلاک اور 8لاکھ 79ہزار 564 ہزار کورونا وائرس سے متاثرہ ہو چکے ہیں۔

بھارت دنیا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر موجود ہے جہاں اب تک ایک لاکھ 32 ہزار 162 افراد وبا کا شکار ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں۔

بھارت میں جمعہ کو کرونا وائرس کے مزید 54ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 584 موت کے منہ میں چلے گئے۔اسکےعلاوہ دارالحکومت دہلی میں کورونا متاثرین کے مریضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ اموات کے بڑھتی ہوئی تعداد کے سبب دہلی کے سب سے بڑے قبرستان میں تدفین کے لیے جگہ کم پڑ رہی ہے۔

دہلی کے ایک قبرستان کے گورکن محمد شمیم نے اے ایف پی کو بتایا کہ مردوں کی تدفین کے لیے جگہ تیزی سے کم ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب وائرس پھیلنا شروع ہوا تو مجھے لگا میں سو سے دو سو مردوں کو دفناؤں گا لیکن موجودہ صورتحال میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی، اب میرے پاس 50 سے 60 قبروں کی جگہ ہے۔ اس کے بعد کیا ہوگا مجھے کچھ معلوم نہیں۔

ادھر دنیا کے دیگر خطوں کی نسبت وائرس کم رفتار سے پھیلنے کے باوجود براعظم افریقہ میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 20لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

افریقی یونین ہیلتھ باڈی کے مطابق اب تک براعظم میں 20 لاکھ 13ہزار 388 افراد وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جس کے لحاظ سے دنیا بھر کے مقابلے میں اس براعظم میں صرف 4فیصد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

البتہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کی مناسب سہولیات دستیاب نہ ہونے اور کم تعداد میں ٹیسٹ کی وجہ سے افریقہ میں یہ تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

سوا ارب سے زائد آبادی کے حامل براعظم میں سب سے کم تعداد میں کورونا کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں اور سب سے زیادہ 7لاکھ 57ہزار 144 افراد جنوبی افریقہ میں وائرس کا شکار ہوئے جس کے بعد مراکش دوسرے نمبر پر ہے جہاں 3لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

جاپان میں ایک مرتبہ بڑی تعداد میں کیسز رپورٹ ہوئے ہیں لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ ابھی ایمرجنسی کے نفاذ کی کوئی ضرورت نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں