30

بڈھیر کے علاقے کے قبرستان میں 7سالہ بچی کی جلی ہوئی لاش ملی

 ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں اس علاقے میں اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ تھا جہاں گزشتہ ہفتے کے روز ایک پڑوس کے گاؤں سے 4 سالہ بچے کی لاش ملی تھی جس کا پیٹ پھٹا ہوا تھا جبکہ بچی کی لاش بلوخیل بالا کے علاقے سے ملی ہے جو بڈھ بیر پولیس اسٹیشن کی حدود میں آتا ہے۔

اس واقعے کے خلاف مکینوں نے شدید احتجاج کیا اور مرکزی کوہاٹ روڈ کو کئی گھنٹوں تک بلاک کردیا، شام کے وقت پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں نے مجرموں کی جلد گرفتاری کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد وہ منتشر ہوگئے‎

بدھ کی سہ پہر 3بجے کے قریب لاپتہ ہوگئی تھی جب کہ اس کی جلی ہوئی لاش جمعرات کی صبح ملی تھی۔

پشاور کے ایس ایس پی (آپریشنز) منصور امان نے بتایا کہ بدھ کی شام بچی کے لاپتا ہونے کی اطلاع مقامی پولیس اسٹیشن کو دی گئی اور اسی دن پولیس حکام نے اس کے والد سے رابطہ کرلیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس اس علاقے میں لاپتا بچی کی تلاش میں بھی شریک ہوئی لیکن جمعرات کی صبح ایک مقامی قبرستان سے اس کی جلی ہوئی لاش ملی ہے۔

ایس ایس پی منصور امان نے بتایا کہ سٹی پولیس نے اپنے بہترین افسران کو اس معاملے کی تفتیش کی ذمے داری سونپی ہے جبکہ انٹیلی جنس اور فرانزک شواہد اکٹھا اور پروفائلنگ اور تفتیش کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بچی کو دادا نے 10 روپے دیے تھے جس کے بعد وہ قریبی دکان پر گئی تھی لیکن پھر وہ واپس نہیں آئی۔

ہمسایہ نے بتایا کہ گھر والوں نے بچی کے لاپتا ہونے کے فوراً بعد ہی اس کی تلاش شروع کردی تھی جبکہ پولیس کو بھی اس کے بارے میں بتایا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ بچی کی لاش کو ایک گورکن نے دیکھا تھا۔

انہوں نے کہا ، “قبرستان کے اندر گورکن نے دیکھا کہ آگ لگی ہوئی ہے اور جب وہ وہاں پہنچا تو اسے انسانی لاش ملی، انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کی اطلاع بعد میں پولیس کو دی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں