36

قومی ادارہ برائے امراض قلب ہسپتال انتظامیہ نے کورونا وائرس کے دوران جاری تمام گائیڈ لائنز کو صرف ‘سیاسی’ وجوہات کی بنا پر نظر انداز

 انہوں نے کہا کہ صورتحال ہسپتال کے آپریشن کیے جانے والے مریضوں میں اموات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے جو 3 سال قبل 26 فیصد تھی اور ہنر مند پیشہ ور افراد اور ایک قابل ٹیم کو شامل کرنے کے تین ماہ کے اندر اندر کم ہوکر 15 فیصد تک رہ گئی تھی۔

یہ دعویٰ این آئی سی وی ڈی میڈیکل فیکلٹی اور انتظامیہ کے ایک سینئر ممبر کی طرف سے سامنے آیا ہے جو رواں ہفتے کے آغاز میں صحت سہولت کے عملے اور صحت کے کارکنوں میں کورونا وائرس کے کیسز پر سرجریز معطل کرنے کے بعد تبدیل کردیے گئے تھے۔

تاہم کارڈیک سرجری ڈپارٹمنٹ کے سربراہ کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد انہیں ہٹا گیا تھا جس پر ڈاکٹر پرویز چوہدری نے فوری ردعمل ظاہر کیا اور جمعرات کے روز کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘جھوٹ اور سازش کو بے نقاب کرنا ہوگا جو صحت کے اہم ادارے کو برباد کر رہا ہے، این آئی سی وی ڈی کی اعلٰی انتظامیہ کے بہانے بنارہی ہے اور اس نے بہت سی جانوں اور ادارے کی ساکھ کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

این آئی سی وی ڈی انتظامیہ نے کہا کہ ڈاکٹر پرویز چوہدری کے دعوے ‘غلط ارادوں’ سے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں