24

چینی کے تھوک نرخ 98 روپے فی کلو سے بڑھ کر 99-100 روپے فی کلو

سرکاری اور نجی شعبے کی طرف سے متعدد درآمد کیے جانے کے باوجود ربیع الاول سے قبل ہی چینی کی تھوک قیمت 5 روپے اضافے کے بعد بڑھ کر فی کلو 98 روپے تک پہنچ گئی تھی۔

ہفتے کے روز وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے درآمد شدہ چینی کی آمد کے سبب آنے والے دنوں میں چینی کی فی کلو قیمت میں 15 سے 20 روپے تک کمی کا عندیہ دیا تھا۔تحریر جاری ہے‎

جبکہ ربیع الاول سے قبل مٹھائی اور دیگر میٹھے اجزا کی تیاری کی وجہ سے مانگ میں اضافے کی وجہ سے ہول سیلرز اور ریٹیلرز نے جب قیمتوں میں اضافہ کیا تھا تو حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی تھی، خوردہ فروش، علاقوں کے لحاظ سے فی کلو چینی 105-110 روپے پر فروخت کر رہے ہیں جسے ربیع الاول سے قبل 95 سے 100 روپے فی کلو میں فروخت کیا جا رہا تھا۔

اب چینی کی قیمت میں اضافہ حیران کن ہے کیوں کہ اب ایک ڈالر انٹربینک مارکیٹ میں 158.91 پر فروخت ہو رہا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں اگست کے آخری ہفتے میں 168.43 روپے میں فروخت ہو رہا تھا جو مذکورہ مدت میں 5 فیصد سے زیادہ کی قدر کی نشاندہی کرتا ہے، اس سے تیار شدہ سامان اور خام مال کی درآمد سستی ہوجاتی ہے۔

الجھن برقرار ہے کیونکہ تھوک فروش اور درآمد کنندگان کا دعویٰ ہے کہ درآمد شدہ چینی کی قیمت میں استحکام رہا ہے اور گزشتہ سیزن میں مقامی طور پر تیار کی جانے والی چینی کے نرخوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں اوپن مارکیٹ میں اسٹاک انتہائی کم سطح پر ہے۔

عام طور پر مقامی تیار کی جانے والی کے ذرے بڑے ہوتے ہیں البتہ اس کے مقابلے میں درآمد کی جانے والی چینی کے ذرے چھوٹے اور اچھے معیار کے ہوتے ہیں۔

کراچی ہول سیلرز گروسرس گروپ کے سربراہ انیس مجید نے کہا کہ مقامی طور پر تیار ہونے والی چینی کی تھوک کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ اسٹاک میں کمی آرہی ہے، انہوں نے کہا کہ اس مہینے کے دوسرے ہفتے یا تیسرے ہفتے میں گنے کی کرشنگ شروع ہونے کے بعد قیمتیں کم ہو جائیں گی۔

انیس مجید نے کہا کہ عمدہ درآمد شدہ چینی 88 روپے فی کلوگرام پر دستیاب ہے، جب یہ پوچھا گیا کہ فائن چینی کیوں درآمد کی گئی تو انہوں نے کہا کہ بیشتر ممالک نے اس قسم کی چینی تیار اور استعمال کرتے ہیں جبکہ پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے لوگ بڑے ذرے پسند کرتے ہیں جو مقامی طور پر تیار کردہ چینی میں پائے جاتے ہیں۔

نجی شعبے نے ستمبر سے 28 اکتوبر تک ڈیڑھ لاکھ ٹن چینی درآمد کی جبکہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان بھی درآمد شدہ چینی لا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں