اسلام ٓاباد

زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ (زیڈ ٹی بی ایل) کو تقریباً 3 سال سے غیر فعال

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے زیڈ ٹی بی ایل کے عہدیداروں کی جانب سے ان کے انہدام کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ انتہائی تشویشناک ہے کہ وفاقی حکومت نے عوامی شعبے میں انتہائی قہم مالیاتی ادارہ زرعی ترقیاتی حکومت کے اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے عملی طور پر 3 سال سے غیر فعال رہا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ نہ صرف گڈ گورننس کے اصولوں کے منافی ہے، بلکہ درخواست دہندگان کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کے بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے’۔

انہوں نے الزام لگایا تھا کہ 6 مارچ کو بینک انتظامیہ نے 150 کے قریب ملازمین کو خطوط جاری کرتے ہوئے انہیں آگاہ کیا تھا کہ انہیں جو 2015 اور 2018 میں ترقیاں ملی تھیں وہ منسوخ ہوگئی ہیں، اس فیصلے سے قبل ملازمین کو سنوائی کا حق بھی فراہم نہیں کیا گیا تھا’۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ ‘وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ 3 سالوں سے بورڈ کی تشکیل میں ناکامی سے درخواست گزاروں کے حقوق کو یقینی طور پر مجروح کیا گیا ہے، اس کے علاوہ حکومت نے سپریم کورٹ کے اگست کے فیصلے میں تجویز کردہ متبادل پر معنی خیز غور کرنے میں تاخیر بھی کی ہے’۔

جسٹس اطہر من اللہ نے اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل زیڈ اے بی ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل کے لیے وفاقی حکومت کے اقدامات نہ کرنے پر کوئی قابل تعریف وضاحت نہیں دے سکے۔

گزشتہ 3 سالوں سے ایک انتہائی اہم سرکاری مالیاتی ادارے کو عملی طور پر غیر فعال رکھنے کے بعد وفاقی حکومت بینک نیشنللائزیشن ایکٹ 1974 کے تحت اپنے قانونی فرائض انجام دینے میں ناکام رہی، ‘ اس طرح کی ناکامی کے یقینی طور پر درخواست گزاروں اور عام لوگوں کے آئینی حقوق پر گہرے نتائج ہوں گے’۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو حکومت سے ہدایات لینے اور بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تشکیل کے بارے میں عدالت کو آگاہ کرنے کو کہا۔

عدالت نے حکم دیاکہ ‘وفاقی حکومت کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ مقررہ تاریخ سے قبل جواب دہندگان کا بورڈ تشکیل دے کر اپنا قانونی فریضہ پورا کرے، اگر بورڈ مقررہ مدت میں تشکیل نہیں پاتا تو سیکریٹری وزارت خزانہ ذاتی طور پر حاضر ہوکر جواب دہندہ کو تقریبا 3 سالوں سے عملی طور پر غیر فعال رکھنے کی وجوہات کی وضاحت کرے گا’۔

اور بعد میں عدالت نے سماعت کو یکم دسمبر تک ملتوی کردیا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *