47

سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا پراسلام آبادکی رپورٹ کو مسترد

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے آئی جی محمد عامر ذوالفقار خان کو حکم دیا کہ وہ تحقیقات کی ذمہ داری کچھ مجاز پولیس افسران یا پولیس افسران کی ایک کمیٹی کو تفویض کریں اور متعلقہ عدالت میں ایک جامع رپورٹ جمع کروائیں۔

سپریم کورٹ نے مطیع اللہ جان کے اغوا سے متعلق کیس سمیت صحافی کی ٹوئٹس پر ان کے خلاف توہین عدالت کیس کی کارروائی شروع کی تھی۔

مطیع اللہ جان کو 21 جولائی کو اسلام آباد میں دن دیہاڑے اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب ایک روز بعد ہی سپریم کورٹ میں انہیں توہین عدالت کیس میں پیش ہونا تھا، تاہم بعد ازاں میڈیا میں معاملہ اٹھائے جانے کے بعد انہیں رات گئے رہا کردیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کے سامنے پیش کردہ رپورٹ میں پولیس کا کہنا تھا کہ ہر ادارے نے کہا ہے کہ وہ مطیع اللہ جان کے اغوا کاروں کی شناخت کرنے سے قاصر ہے۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کے مطابق نادرا، ایف آئی اے، اسلام آباد پولیس اور حتیٰ کہ اربوں ڈالرز کے سیف سٹی پروجیکٹ کی انتظامیہ بھی صحافی کے اغوا میں ملوث گاڑیوں اور افراد کا پتہ لگانے میں ناکام رہے۔

رپورٹ کے مطابق سسٹم کسی ایک ملزم کی بھی شناخت نہیں کرسکا حالانکہ حقیقت میں ان میں سے 5 نے ماسک نہیں پہنا ہوا تھا۔

نادرا کا دعویٰ تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں اغواکاروں کے چہرے واضح نہیں تھے جو ان کی شناخت کے لیے اس کی سسٹم کی ضرورت تھی۔

ایف آئی اے نے کہا تھا کہ شناخت کے بارے میں فرانزکلی نہیں معلوم ہوسکا جبکہ سیف سٹی انتظامیہ نے کہا تھا کہ جس علاقے سے صحافی کو اغوا کیا گیا وہ علاقہ ان کی کوریج سے باہر تھا۔

جرنسلٹ ڈیفنس کمیٹی کے کنوینر جہانگیر جدون نے عدالت کو بتایا کہ پولیس صرف خانہ پوری کر رہی تھی۔

سب باتوں کو مدنظر رکھتے ہویے چیف جسٹس نے افسوس کا اظہار کیا کہ آئی جی جو چھٹیوں پر تھے وہ گھوم رہے تھے اور ان کے پاس کوئی معلومات نہیں تھی کہ صحافی کو اغوا کرنے کے بعد کون اسے چھوڑ کر گئے۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کا کہنا تھا کہ وہ پولیس رپورٹ سے مطمئن نہیں۔

مزید سماعت کو ملتوی کرتے ہوئے کہاگیا کہ اس معاملے پر دوبارہ سماعت تب کی جائے گی جب ایک ماہ بعد عدالت اسے دوبارہ سنے گی۔

علاوہ ازیں توہین عدالت کے الزام میں صحافی مطیع اللہ جان نے اپنے وکیل بابر ستار کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں سپریم کورٹ سے کہا کہ جس ٹوئٹ پر انہیں توہین کا سامنا کرنا پڑ رہا اس کا مطلب صرف عدالت کے اس حکم پر اپنی مایوسی کا اظہار کرنا تھا جس پر معاشرے کے ایک بڑے طبقے نے تنقید کی۔

مطیع اللہ جان کا کہنا تھا کہ اگر اسے غیرمناسب الفاظ کی طرح سمجھا جاتا ہے اور ججز کو کسی تکلیف پہنچنے کا باعث بنتے ہیں تو اس پر افسوس ہے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایک فیصلے پر کسی کی ایماندارانہ اور حقیقی رائے/ردعمل کے اظہار کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں