43

پاکستان میں غیر ملکی طلبہ کے لیے کالج ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) پاس کرنا لازم قرار

نجی کالجز کو غیر ملکی طلبہ کے لیے پاکستانی طلبہ سے مختلف فیس اسٹرکچر مقرر دینے کی بھی اجازت دے دی گئی، مزید یہ کہ صوبے بھی اپنے سرکاری کالجز میں غیر ملکی طلبہ کے لیے کوٹہ مختص کرسکتے ہیں۔

پی ایم اے نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مقامی طلبہ کے لیے میڈیکل تعلیم کے دروازے بند ہوجائیں گے۔

پامی کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے مقامی طالبہ کی اکثریت کو داخلہ ملے گا کیوں کہ ایم ڈی کیٹ کو لازم قرار دینے سے غیر ملکی طلبہ دیگر ممالک میں مواقع تلاش کریں گے۔

اس نوٹیفکیشن کے مطابق غیر ملکی طلبہ کو 2 کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں ایک پاکستانی طلبہ سمندر پار مقیم پاکستانی اور دوسری غیر ملکی طلبہ کے لیے ہے۔

’غیر ملکی طلبہ کے لیے کوئی کوٹہ نہیں ہے، تمام غیر ملکی طلبہ کو نجی کالجز میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے ملکی معیار پر پورا اترنا ہوگا، اگر صوبے چاہیں تو اپنے سرکاری میڈیکل کالجز میں غیر ملکی طلبہ کے لیے کوٹہ مختص کرسکتے ہیں‘۔

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا کہ نجی کالجز غیر ملکی طلبہ کے لیے پاکستانی طلبہ سے مختلف فیس اسٹرکچر مقرر کرسکتے ہیں جس میں پاکستانی طلبہ سے کم فیس وصول کی جائے۔

اسکے مطابق غیر ملکی طلبہ وہ غیر ملکی شہری ہیں جو پاکستانی شہریت نہیں رکھتے، اور انہوں نے اعلیٰ ثانوی تعلیم کا سڑٹیفکیٹ، 12جماعت یا اس کا مساوی امتحان پاکستان سے باہر سے پاس کیا ہو۔

پاکستانی طلبہ وہ ہیں جو غیر رہائشی یا دوہری شہرت والے غیر رہائشی طلبہ ہیں جنہوں نے پاکستان کے باہر سے اعلیٰ ثانوی تعلیم یا اس کے مساوی امتحان پاس کیا ہو۔

نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا کہ غیر ملکی طالبعلم ایم ڈی کیٹ کے نتیجے یا حیاتیات، کیمیا اور طبیعات/ریاضی میں سیٹ 2(اسکولیسٹیک ایپٹی ٹیوڈ ٹیسٹ) کے نتائج پر میرٹ کی تیاری کے لیے اپلائی کرسکتا ہے۔

عالمی وبا کووِڈ 19 کی وجہ سے دونوں کٹیگریز کے طلبہ کو ایم ڈی کیٹ سے مستثنیٰ کردیا گیا ہے اور ان کے داخلوں کے لیے صرف سیٹ 2 کے نتائج کو دیکھا جائے گا۔

پی ایم اے کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی پالیسی کی وجہ سے مقامی طلبہ اپنے حقوق سے محروم ہوجائیں گے کیوں کہ کالجز کو غیر ملکی طلبہ سے زائد فیس وصول کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

پی ایم سی کے ایک رکن نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ یہ غیر ملکی طلبہ کی حوصلہ افزائی میں پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

’مغربی ممالک میں میڈیکل گریجویٹ کی سالانہ فیس 60 ہزار ڈالر ہے اگر ہم انہیں 12 ہزار ڈالر سالانہ کی پیشکش کریں گے تو زیادہ طلبہ داخلہ لیں گے‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں