35

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس

سپریم کورٹ آفس کی جانب سے جاری کاز لسٹ میں 7ججز ٓ ہیں کاز لسٹ کے مطابق لارجر بینچ میں جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس فیصل عرب، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس قاضی محمد امین پر مشتمل ہے۔

جسٹس عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو چیلنج کرنے کے لیے دائر مختلف آئینی درخواستوں کا فیصلہ کیا تھا اور اکثریتی فیصلہ بھی جاری کیا تھا۔

نظرثانی درخواستوں میں خود جسٹس عیسیٰ، ان کی اہلیہ سرینا عیسیٰ، سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر محمد آصف ریکی، پنجاب بار کونسل کے نائب چیئرمین شاہنواز اسمٰعیل، سینئر ایڈووکیٹ عابد حسن منٹو اور پاکستان بار کونسل نے مختصر فیصلے کے پیراگرافس 3 سے 11 کو دوبارہ دیکھنے کی درخواست کی ہے۔

اس میں درخواست گزاروں نے اعتراض اٹھایا ہے کہ 19 جون کے مختصر فیصلے میں پیراگرافس 3 سے 11 کی ہدایات/ آبزرویشنز یا مواد غیرضروری، ضرورت سے زیادہ، متضاد اور غیرقانونی ہے اور یہ حذف کرنے کے قابل ہے چونکہ اس سے ریکارڈ میں ’غلطی‘ اور ’ایرر‘ کیا ہے

اس رپورٹ کی روشنی میں سپریم جوڈیشل کونسل اپنے ازخود دائرہ کار کے اختیار کے تحت آئین کے آرٹیکل 209 کے مقاصد کے لیے کوئی ایکشن/کارروائی شروع کرسکتی ہے۔

پیراگرافس 13 سے 14 کے مطابق جسٹس مقبول باقر، جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے جسٹس عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم کردیا تھا جس کے ساتھ ہی جسٹس عیسیٰ کو سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری شوکاز نوٹس بھی غیرمؤثر ہوگیا تھا۔

نظرثانی درخواست میں جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے اسے روکنے کی استدعا کی کیونکہ ان کے بقول ایف بی آر کمشنر ان کے خلاف نامناسب انداز میں جلدی سے کارروائی کر رہے۔

دونوں نے ’آف شور ایویڈر‘ اور ’آف شور اثاثے‘ کی اصطلاح 30 جون 2019 کو شائع ہونے والے فنانس ایکٹ 2019 مین پہلی مرتبہ متعارف کروائی گئی تھی۔

اسکے علاوہ انہوں نے 2018 اور 2019 کے لیے اپنے ٹیکس ریٹرنس میں 3 آف شور جائیدادیں ظاہر کی تھی، جو قانون میں تبدیلی کے بعد ان کے لیے ضروری تھا کہ وہ اسے ظاہر کریں اور اس تاریخ کے بعد سے انہیں ٹیکس سال یا ٹیکس ریٹرن سے متعلق کوئی ایک نوٹس بھی نہیں موصول ہوا۔

اس میں کہا گیا تھا کہ عدالت عظمیٰ نے آرٹیکل (3) 184کے تحت 19 جون کا حکم جاری کرتے ہوئے مؤثر طریقے سے لوگوں کا ایک طبقہ تشکیل دیا اور اس طبقے میں شامل انفرادی شہریوں کے نجی اور خفیہ معاملات کو ’عوامی اہمیت‘ کے معاملات کے طور پر بیان کیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال کے تحریری فیصلہ میں قرار دیا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 209 (5) کے تحت صدر مملکت عارف علوی غور شدہ رائے نہیں بنا پائے لہٰذا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس میں ’مختلف نقائص‘ موجود تھے۔

اور کہا گیا تھا کہ کہ جواب دہندگان (فریقین) نے جسٹس عیسیٰ کے ٹیکس ریکارڈز تک غیرقانونی رسائی حاصل کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں