31

کراچی اور حیدرآباد جیسے شہری علاقوں میں ایک تازہ شفاف مردم شماری

 پارٹی کے کنوینیئر خالد مقبول صدیقی اور پارٹی کے سینئر رہنماؤں کی جانب سے درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکومت کو سندھ میں نئے سرے سے مردم شماری کرنے کی ہدایت دے۔

درخواست مین کہا گیا کہ سی سی آئی کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت کو بھی 2017 کی مردم شماری کے حتمی نتائج کو شائع کرنے یا نوٹی فائی کرنے سے روکنا چاہیے۔

اس کے علاوہ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ 5 بلاکس میں قابل اعتماد تیسرے فریق کے ذریعے آڈٹ کروایا جائے تاکہ سندھ میں مردم شماری 2017 کی مشق کی درستگی اور اس کا معیار معلوم کیا جاسکے۔

2017 مردم شماری میں تضادات کو اجاگر کرتے ہوئے درخواست میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مردم شماری کے نتائج متضاد نظر آتے ہیں۔

1981اس کے علاوہ 1998 کے دوران پاکستان میں اوسطا آبادی میں اضافے کی شرح 2.69 فیصد تاہم عرصے میں سندھ کے شہری بلاکس کی اوسط آبادی میں اضافے کی شرح 3.52 فیصد اور سندھ کے دیہی بلاکس کے لیے یہ 2.19 فیصد تھی۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ کراچی خود سندھ کی شہری آبادی کا بڑا حصہ ہے جس سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ 1998 تک سندھ کے شہری علاقوں کی آبادی میں اضافے کی شرح دیہی علاقوں سمیت پاکستان کے باقی حصوں سے زیادہ ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ زرعی اور دیہی علاقوں سے شہری / صنعتی / تجارتی مراکز میں ترقی پذیر ممالک میں نقل مکانی کے قومی اور بین الاقوامی رجحان کے مطابق ہے۔

یہ بات بھی ہے کہ یہ 2017 کی مردم شماری کے نتائج بتاتے ہیں کہ 1998 سے 2017 تک پاکستان کے لیے اوسط شرح نمو معمولی سے کم ہوکر 2.40 فیصد رہ گئی ہے جبکہ سندھ کے دیہی علاقوں کی اوسط شرح نمو معمولی حد تک بڑھ کر 2.36 فیصد ہوگئی ہے لیکن اوسط سندھ کے شہری علاقوں کی شرح نمو بالکل اس کے برعکس 1.06 فیصد کی کمی سے 2.46 فیصد رہ گئی ہے۔

دوسری جانب ضلع تھرپارکر میں 3.15 فیصد اضافہ ہوا ہے اور جامشورو ضلع میں 2.85 فیصد اضافہ ہوا ہے، ضلع حیدرآباد میں 2.05 فیصد کی کافی حد تک کم اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور پورے کراچی ڈویژن میں صرف 2.60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

دوسرے الفاظ میں 2017 کے نتائج کے مطابق کراچی سندھ اور بیشتر پاکستان کے دیہی علاقوں سے بھی سست ہو گیا ہے اور یہ کہ گزشتہ 20 سالوں کے دوران کراچی میں عملی طور پر کوئی ہجرت نہیں ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں