38

ای سی سی کا گندم کی امدادی قیمت میں 25 فیصد اضافہ کرنے سے گریز

وزارت قومی غذائی تحفظ کی جانب سے ایک ہزار 745 روپے ایم ایس پی فی 40 کلو تجویز سے وزرا کے اختلاف کے بعد ای سی سی نے 2020 اضافے کی تجویز کا مکمل جائزہ لینے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

کمیٹی نے ای سی سی کے معمول کے اجلاس سے قبل فصل کے لیے ایم ایس پی کے طور پر ایک ہزار 600 روپے فی 40 کلو گرام طے کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس کے ساتھ ہی ذیلی کمیٹی نے کاشتکاروں کو کم ان پٹ لاگت کو یقینی بنانے کے لیے آئندہ فصل میں ڈی اے پی کھاد پر ایک ہزار روپے فی 50 کلو سبسڈی دینے کا بھی فیصلہ کیا۔

اسکے علاوہ وزارت قومی غذائی تحفظ کو ہدایت کی کہ وہ ان کی سفارشات کی بنیاد پر ایک سمری کو باضابطہ فیصلے کے لیے ای سی سی کے سامنے رکھے۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ای سی سی کے اجلاس کی صدارت کی جس میں وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے ربیع کے موسم میں کھاد کے دو پلانٹز، ایگری ٹیک اور فاطمہ فرٹلائزرز کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ری گیسیفائیڈ لیکوئیفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی فراہمی کے لیے پیش کردہ سمری پر بات کی گئی۔

ای سی سی نے فیصلہ کیا کہ آر ایل این جی کی فراہمی نومبر 2020 کے آخر تک جاری رہے گی۔

مارکیٹ میں آٹے کی بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ای سی سی گندم کا ایم ایس پی 25 فیصد اضافے سے ایک ہزار 745 روپے فی 40 کلوگرام کرنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔

گندم کی امدادی قیمت میں 5 فیصد اضافے سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ مجموعی مہنگائی میں تقریبا 1.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ موجودہ حکومت کے دوران گندم کے آٹے کی قیمتوں میں پہلے ہی 50 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں