اسلام ٓابادپاکستان

کرپشن ریفرنسز میں فریقینالتوا دیے بغیر سماعتوں میں تیزی لانے کی ہدایت

سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے احتساب عدالتوں ہدایت کی کہ وہ جتنی جلدی ممکن ہو مختلف گواہوں کے ثبوتوں کو ریکارڈ کرنے کو یقینی بنائے۔

استغاثہ کی جانب سے کوئی التوا نہیں مانگا جائے گا

نیب چیئرمین جاوید اقبال عدالت حکم کی تکمیل کو یقینی بنائیں گے اور عدالتی ہدایات پر عملدرآمد نہ کرنے میں قصوروار پائے جانے والوں کے خلاف کارروائی کی جاےؑگی‎

ایڈیشنل اٹارنی جنرل سہیل محمود نے عدالت کو بتایا کہ اٹارنی جنرل برائے پاکستان خالد جاوید خان نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی جس میں 120 احتساب عدالتوں کے قیام کے علاوہ اعلیٰ عدالتوں میں زیرسماعت مختلف کیسز پر بات کی گیؑ۔

جنرل سہیل محمودنے عدالت کو آگاہ کیا کہ 120 احتساب عدالتوں کے قیام کے لیے ایک جامع مجوزہ حتمی منظوری کے لیے پہلے ہی وزیراعظم سیکریٹریٹ میں جمع کروایا جاچکا ہے۔

سپریم کورٹ نے سیکریٹری قانون کو ہدایت کی کہ وہ 120 احتساب عدالتوں سے متعلق فیصلے پر ایک رپورٹ بینچ کے سامنے پیش کریں۔

ابتدائی طور پر کچھ مزید احتساب عدالتیں قائم کی جائیں گی اور ان کی تعداد کسی حد تک بڑھ کر 120 ہوجائے گی۔

سپریم کورٹ نے (این اے او) کی اُس شق 16 کی روشنی میں احتساب عدالتوں میں ٹرائلز میں تاخیر پر خود نوٹس لیا تھا،

دوسری جانب وزارت قانون کی رپورٹ کے مطابق تمام 24 احتساب عدالتیں مکمل فعال ہیں اور اس وقت کسی احتساب عدالت میں کوئی اسامی خالی نہیں ہے۔

عدالت میں جب سیکریٹری قانون پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے حیرانی کا اظہار کیا کہ کیوں وزارت قانون ایک مستقل سیکریٹری تعینات نہ کرکے ایڈہاکزم کی پیروی کر رہا ہے۔

گزشتہ حکم کے مطابق چیئرمین نیب نے مجوزہ نیب رولز 2020 کو حتمی منظوری کے لیے 26 اگست 2020 کو صدر مملکت کے سامنے پیش کیا تھا، اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزارت قانون رولز کی جان پڑتال کر رہی ہے اور اگر حکم مل گیا اسی کا اطلاق ہوگا، لہٰذا عدالت کو اس سلسلے میں مزید ایک ماہ دینا چاہیے۔

ضمانت کی درخواست پر نیب کا جواب طلب

ایک علیحدہ کیس میں سپریم کورٹ نے 17 کروڑ روپے کے کرپشن اسکینڈل میں ملوث محکمہ سیاحت سندھ کے ملازم داؤد پوتا کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر نیب پراسیکیوٹر جنرل سے 10 روز میں جواب طلب کرلیا۔

ا ملزم کا مؤقف ہے کہ نیب نے ان کی مدد اور تعاون سے اس اسکینڈل کا پتا لگایا تھابعد میںاپنے ریفرنس میں انہیں کا نام شامل کردیا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *