39

موبائل فون چوری کے شبہات میںایک 20 سالہ نوجوان کی موت

کھاریاں کے ملکہ گاؤں کے رہائشی شرافت علی نے منگل کے روز ککرالی پولیس میں شکایت درج کروائی کہ اس کے 20 سالہ بیٹے صحاوت علی کو 5 اکتوبر کو اسسٹنٹ سب انسپکٹر افتخار نے متعدد نامعلوم پولیس اہلکاروں کے ہمراہ پکڑ لیا تھا، جب وہ تھانے گئے تو اسے اپنے بیٹے کی گرفتاری سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں‎

اس نے دعویٰ کیا کہ اگلے دن اسے ایک نامعلوم شخص کا فون آیا جس نے اسے تھانے آ کر اپنے بیٹے کو لینے آنے کے لیے کہا، جب وہ وہاں پہنچا تو ایس ایچ او لیاقت نے اس کے بیٹے کو تشویشناک حالت میں حوالے کردیا اور دھمکی بھی دی کہ اس معاملے پر خاموش رہے ورنہ سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے بیٹے نے انہیں بتایا تھا کہ پولیس نے اسے شدید جسمانی اذیت کا نشانہ بنایا تھا اور بعد میں انہی چوٹوں میں اس کی موت ہوگئی۔

ککرالی پولیس نے ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف دفعہ 365 کے تحت اغوا کا مقدمہ درج کیا اور مبینہ طور پر دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا اور تفتیش شروع کردی گئی۔

بچے کو پہلے عزیز بھٹی شہید ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا گیا اور بعد میں اس کا پوسٹ مارٹم کھاریاں ٹی ایچ کیو ہسپتال میں کرایا گیا، اہل خانہ اور پڑوسیوں نے ٹی ایچ کیو ہسپتال کے باہر پولیس کے خلاف مظاہرہ کیا اور حراست میں قتل کے مقدمے کے اندراج کا مطالبہ کیا۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) عمر فاروق سلامت اور دیگر اعلیٰ عہدیدار موقع پر پہنچ گئے اور مظاہرین کو بتایا کہ پوسٹ مارٹم کی تکمیل کے بعد اس کیس میں قتل اور حراستی قتل کے الزامات ہی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

دریں اثنا اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او نے اس معاملے میں ملوث ککرالی ایس ایچ او اور دیگر تمام عہدیداروں کو معطل کردیا اور پولیس سپرنٹنڈنٹ (انوسٹی گیشن) عمران رزاق کے ساتھ ساتھ کھاریاں اور سرائے عالمگیر کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے ساتھ مل کر ایک اعلی سطح کی انکوائری ٹیم تشکیل دی، انسپکٹر ملک نذیر کو ککرالی کا نیا ایس ایچ او مقرر کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں