29

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق وضاحت طلب کرلی۔

عدالت نے پاکستان (پی ایف یو جے) کے صدر، پاکستان (پی بی سی) کے نائب چیئرمین عابد ساقی، صحافی مظہر عباس اور سابق وزیراطلاعات جاوید جبار کو مذکورہ معاملے میں عدالتی معاون مقرر کردیا۔

عدالت نے ان تمام افراد کو پی ٹی اے کی جانب سے 2016 ایکٹ میں تفویض کردہ اختیارات کے غلط استعمال جو آئین کے آرٹیکل 19 اور 19-اے میں دیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے سے متعلق سوال پر معاون مقرر کیا۔

درخواست گزار نے اپنے وکیل کے توسط سے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ ایک معروف ایتھیلیٹ ہیں اور انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کی،

وکیل کے مطابق درخواست گزاراشفاق جٹ پی ٹی اے کی جانب سے لیے گئے اقدامات سے متاثر ہوئے اور ٹک ٹاک پر پابندی لگی۔

وکیل نے مؤقف اپنایا کہ پی ٹی اے کے اقدامات پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ، 2016 کے سیکشن 37 کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے عوامی اور پی ٹی اے کے کیس سے متعلق 12 ستمبر 2019 کے فیصلے میں دی گئی ہدایات کے باوجود اتھارٹی اور وفاقی حکومت 2016 کے ایکٹ کے سیکشن 37کے ذیلی سیکشن (2) میں دی گئی متعلقہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی اور سب سیکشن (1) میں دیے گئے اختیارات کا غلط استعمال کیا گیا۔

عدالت نے 3 ماہ میں قوانین بنانے اور نوٹیفائی کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔

وکیل نے زور دیا کہ

وکیل نے زور دیا کہ ٹک ٹاک ایپ بہت سارے باصلاحیت شہریوں، خاص طور پر پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو آمدن کا ذریعہ فراہم کرتی اور چند لوگوں کی جانب سے پلیٹ فارم کے غلط استعمال پر اس پر پابندی نہیں لگانی ہے۔

دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کی مدد کے لیے ایک اعلی افسر کو نامزد کریں اور وضاحت طلب کی کہ مذکورہ بالا فیصلوں میں اس عدالت کی جانب سے دی گئی ہدایات کی خلاف ورزی کرنے پر کارروائی کیوں نہیں کی جاسکتی اور ٹک ٹاک ایپ پر پابندی عائد کرنے کا حکم کیوں معطل نہیں ہوسکتا۔

عدالت نے کیس کی سماعت 23 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے 9 اکتوبر کو فحش مواد کو نہ ہٹائے جانے پر ٹک ٹاک کو ملک بھر میں بند کردیا تھا۔

ملک بھر میں ٹک ٹاک کو بند کیے جانے پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا تھا،

ٹک ٹاک پر پابندی عائد ہونے کے بعد ملک بھر میں اسے(وی پی این) کے ذریعے ملک بھر میں چلایا جا رہا ہے اور اس عمل کے خلاف بھی لاہور ہائی کورٹ میں ایک شہری نے درخواست دائر کر رکھی ہے۔

جس میں استدعا کی گئی تھی کہ وہ وی پی این پر بھی ٹک ٹاک کو بند کرنے کا حکم دے۔

چند روز قبل (آئی ٹی) اور ٹیلی کام کے وفاقی وزیر امین الحق نے کہا تھا کہ ‘ٹک ٹاک’ سے جلد ہی پابندی ختم کردی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں