34

اداکار سشانت سنگھ کو قتل نہیں کیا گیا اور یہ خودکشی کا کیس ہے

 سینٹرل فرانزک سائنس لیبارٹری (سی ایف ایس ایل) نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں ایسے شواہد نہیں ملے، جن سے یہ بات ثابت کی جا سکے کہ اداکار کو قتل کیا گیا۔ دہلی کے اے آئی آئی ایم ایسکے ڈاکٹرز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اداکار سشانت سنگھ کو قتل نہیں کیا گیا اور یہ خودکشی کا کیس ہے۔ اداکار کے اہلخانہ اور ان کے وکیل کی جانب سے زہر دینے اور گلا گھوٹنے کے نظریات کو مسترد کردیا۔

ڈاکٹر سدھیر گپتا نےکہا تھا کہ اداکار کے جسم پر پھندے سے لٹکنے کے علاوہ کوئی زخم نہیں، ان کے جسم اور کپڑوں پر جھگڑےیابچاؤ کی کوشش کے کوئی نشانات نہیں تھے۔لیب کی جانب سے کی گئی تفتیش میں خودکشی کی ترغیب دینے والے کسی مواد کی موجودگی نہیں پائی گئی۔

وکیل وکاس سنگھ نے کہا کہ سی بی آئی سے درخواست کروں گا کہ ایک نئی فرانزک ٹیم تشکیل دے۔بی جے پی کے ایم پی سبرامنین سوامی نے سوال کیا ہے کہ 14 جون کو سشانت کے اپنے کمرے میں مردہ حالت میں ملنے سے قبل اورنچ جوس کے گلاس کو محفوظ کیوں نہیں کیا گیا۔

وکیل نے کہا کہ تھا کہ ڈاکٹر نے مجھے بہت پہلے بتایاکہ میری بھیجی گئی تصاویر سے 200 فیصد عندیہ ملتا ہے کہ سشانت کی موت گلا گھوٹنے سے ہوئی اور یہ خودکشی نہیں ہے۔ابتدائی تین دن میں ہی ان کی ابتدائی پوسٹ مارٹم جاری کی گئی تھی، جس میں ان کے قتل کے خدشات کو مسترد کیا گیا تھا۔بظاہر اداکار نے پھندا لگا کر خودکشی کی اور ان کی موت دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی جب کہ ان کے جسم پر تشدد کے کوئی نشانات نہیں ملے۔تاھم اداکار کے مداح اور ان کے قریبی رشتہ و اہل خانہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں پریشان کرکے خودکشی پر مجبور کیا گیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں