39

سینئر پولیس افسران نے سی سی پی اوخلاف ‘مشترکہ بیان’ جاری کردیا

نسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) پنجاب انعام غنی کی ہدایت پر شروع کی گئی۔جج عارف حمید نے اس وقت تحقیقات کا حکم دیا تھا جب گجرپورہ پولیس کے سابق ایس ایچ او نے اس شکایت کے ساتھ عدالت سے رجوع کیا تھا کہ لاہور پولیس کے حکام ان کی شکایات پر سی سی پی او لاہور کے خلاف مقدمہ درج نہیں کر رہے۔

منگل کو انکوائری افسر نےدرخواست گزار اور 4 پولیس عہدیداروں کے بیانات ریکارڈ کیے۔دوسری جانب آئی جی انعام غنی نے ڈان کو تصدیق کی کہ ’عدالتی حکم کی روشنی میں میں نے ایڈیشنل آئی جی کی ذمہ داری لگائی کہ وہ سی سی پی او لاہور کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے انکوائری کا آغاز کریں‘۔سید احمد رضا جعفری نے الزام لگایاسسٹنٹ سب انسپکٹرزے بغیر کسی قانونی جواز اور تمام اخلاقیات کے خلاف ان سے بدتمیزی کرنا شروع کردی اور اپے اسٹاف کو ہدایت کی کہ اس وقت تک تشدد کریں جب تک یہ مر نہ جائے۔

انہوں نے سی سی پی او لاہور کے خلاف مجرمانہ مقدمے کے اندارج کے لیے سول لائنز تھانے میں درخواست جمع کروائی تھی۔انہوں نے الزام لگایا کہ عمر شیخ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ بدتمیزی کی اور غیرقانونی ایف آئی آر درج کی۔

عدالت نے معاملے کو آئی جی پی کو بھیجتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ ایک سینئر پولیس افسر کے ذریعے انکوائری کرائیں۔

عدالتی حکم میں کہا گیا تھا کہ اگر درخواست گزار کی جانب سے لگائے گئے الزامات ثابت ہوتے ہیں تو انتظامی یا قانونی طور پر آگے بڑھیں، اس کے بعد اس عدالت کی آگاہی کے ساتھ قانون کے مطابق سختی سے مزید آگے کی کارروائی کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں