44

اسٹاک بڑھنے کی وجہ سے ریفائنریز بند ہونے کا خدشہ

اسلام آباد: ملک بھر میں تیل کی شدید قلت کے چند مہینوں بعد ہی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی جانب سے کم اٹھانے کی وجہ سے آئل ریفائنریز اپنی صلاحیت کے استعمال میں کمی اور آئل فیلڈز سے خام پیداوار میں کمی کر رہی ہیں۔

ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے تیل کی قیمتوں کو ماہانہ سے سہ ماہی بنیاد پر تبدیل کرنے کے فیصلے کے بعد او ایم سی نے پٹرولیم مصنوعات کو اٹھانا کم کردیا ہے جبکہ اسمگل شدہ مصنوعات کی بھی بڑی مقدار مارکیٹ میں داخل ہوگئی ہے۔

ریفائنریز حکومت کو خبردار کر رہی ہیں کہ صورتحال ایسی ہی رہی تو وہ بند ہوجائیں گی جس کے نتیجے میں بعد ازاں مصنوعات کی قلت کا سامنا ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی تیل مصنوعات کی اسمگلنگ کورونا وائرس سے سرحد کی بندش کی وجہ سے قابو میں آچکی تھی تاہم سرحدی آپریشنز معمول پر آنے کے بعد یہ اپنی پوری تیزی سے دوبارہ بحال ہوشکی ہیں۔

ایرانی مصنوعات کراچی کے قریبی علاقوں تک فروخت ہورہی ہے اور چند مارکیٹ ذرائع بشمول چند ڈیلرز اور آئل کمپنیاں بھی اس غیر قانونی برآمدات سے فائدہ اٹھارہی ہیں۔

عہدیدار نے بتایا کہ پٹرولیم ڈویژن نے او ایم سیز کو ہدایت کی ہے کہ وہ ریفائنریز سے مصنوعات خریدنا بڑھا دیں تاہم وہ اس پر بمشکل کوئی دباؤ ڈال سکیں گے کیونکہ وہ اپنے وعدے کو پورا نہیں کر رہے جس کی وجہ سے ریفائنریز میں اسٹوریج بھرچکی ہیں۔

پٹرولیم ڈویژن نے آئل کمپنیوں کی ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) کو لکھا کہ ‘ان خدشات کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے وقتا فوقتا جاری کردہ ہدایتوں کے باوجود ریفائنریز سے پٹرولیم مصنوعات اٹھانے میں بہتری نہیں لائی جا رہی ہے جس کی وجہ سے آئل ریفائنریز کے آپریشنز پر سمجھوتہ کیا جارہا ہے’۔

پٹرولیم ڈویژن نے او سی اے سی کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ممبران (او ایم سیز) کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے دباؤ ڈالے۔

انہوں نے کہا کہ ریفائنریز اور کھوج اور پیداوار کے شعبوں کے آپریشنز بحال رکھنے کے لیے تمام او ایم سیز کو ایک بار پھر سختی سے مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے وعدے اور متفقہ مقدار کے مطابق مقامی ریفائنریز سے تیار شدہ مصنوعات اٹھانا فوری طور پر شروع کریں’۔

علاوہ ازیں ریفائنریز بشمول ملک کے شمال میں کام کرنے والی اٹک ریفائنری (اے آر ایل) اور وسط کی پاک عرب ریفائنری (پارکو) اپنی پوری صلاحیت سے کام کر رہی ہیں جبکہ جنوب میں بائیکو ریفائنری کافی عرصے سے بند رہنے کے بعد آہستہ آہستہ پیداوار کی جانب واپسی پر ہے۔

تاہم اطلاعات کے مطابق اس کی بندش کے دوران مصنوعات کے خلا کو اسمگل شدہ خام تیل کے ذریعہ پُر کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اے آر ایل ستمبر کے تیسرے ہفتے سے ہی پیٹرولیم ڈویژن کو انتباہ دے رہا تھا کہ اس کے اسٹوریج پر ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کا اسٹاک بھر چکا ہے۔

اس ہفتے ایک بار پھر اس نے بگڑتی ہوئی صورتحال کی اطلاع دیتے ہوئے کہا تھا کہ متعدد درخواستوں کے باوجود اے آر ایل سے ایچ ایس ڈی کی مصنوعات کی کم اٹھانا جاری ہے۔

اے آر ایل کے چیف ایگزیکٹو عادل خٹک نے پیٹرولیم ڈویژن کو خط لکھا کہ ‘اس وقت ہائی اسپیڈ ڈیزل کی پیداوار کو جمع کرنے کے لیے ہمارے پاس صرف دو روز کی اسٹوریج میں جگہ باقی ہے، اس کی وجہ سے ہم 5 ہزار بیرلز فی یوم کے ایک خام ڈسٹیلیشن یونٹ کو بند کرتے ہوئے اپنی ریفائنری کی پیداوار کم کر رہے ہیں’۔

دوسری جانب ملک میں پیٹرول کا مجموعی اسٹاک کم از کم 21 دن کے لازمی اسٹاک کے مقابلے میں طلب کے صرف 15 روز کے برابر ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کا اسٹاک 29 دن کے برابر بتایا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں