41

مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے خلاف بغاوت کے مقدمے پر نئی بحث چھڑ گئی

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف سمیت کے پارٹٰ کے متعدد رہنماؤں کے خلاف بغاوت کے مقدمے کے اندراج سے ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا عام شہری اس طرح کا مقدمہ درج کرسکتا ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

سینئر وکلاء کی رائے ہے کہ ایک عام شہری ملک سے بغاوت کا مقدمہ درج نہیں کرسکتا۔

منگل کے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے 2007 کے وکلا کی تحریک کی سربراہی کرنے والے سینئر وکیل علی احمد کرد نے کہا کہ یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین عابد ساقی سے جب اس بحث پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے یاد دلایا کہ فوجداری ضابطہ اخلاق (سی آر پی سی) کے سیکشن 196 کے تحت صرف وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی جانب سے ہی شکایت درج کی جاسکتی ہے یا کسی اتھارٹی / آفیسر کو اس کا اختیار دیا گیا ہے۔تحریر جاری ہے‎

دفعہ 196 ریاست کے خلاف جرائم کے حوالے سے قانونی چارہ جوئی سے متعلق ہے اور وضاحت کرتا ہے کہ کسی بھی عدالت کو پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کے چیپٹر 6 یا 9 اے کے تحت سزا دی جانے والی کسی بھی جرم کا معاملہ نہیں اٹھانا چاہیے جب تک کہ اس کے خلاف یا وفاق یا متعلقہ صوبائی حکومتوں کے احکامات یا اتھارٹی کے تحت کوئی شکایت درج نہ ہو۔

اس کے علاوہ وفاق یا صوبائی حکومتوں سے وابستہ یا چند افسران کو بھی اس کا اختیار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ایک شہری بدر رشید کی شکایت پر لاہور لئ شاہدرہ تھانے نے الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 کے سیکشن 10 (سائبر دہشت گردی) اور پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 120 اے (مجرمانہ سازش کی تعریف)، 120 بی (مجرمانہ سازش)، 121 اے (پاکستان کے خلاف جنگ کی سازش)، 123 اے (ملک بنانے کی مذمت اور اس کی خودمختاری کے خاتمے کی وکالت)، 124 اے (بغاوت) اور 153 اے (مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا) کے تحت نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے متعدد دیگر رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔

شکایت کنندہ نے الزام لگایا تھا کہ پاکستان کی عدالتوں کی جانب سے بدعنوانی کے الزامات میں سزا پانے والے نواز شریف نے 20 ستمبر کو کثیر الجہتی کانفرنس (ایم پی سی) اور اپنی جماعت کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) اور سنیٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) سے یکم اکتوبر کو خطاب کرتے ہوئے ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کیں۔

ایف آئی آر میں مسلم لیگ (ن) کے دیگر سینئر رہنما بھی شامل تھے جنہوں نے اجلاس میں شرکت کی تھی اور نواز شریف کی تقریر کی توثیق کرتے ہوئے ہاتھ اٹھائے تھے۔

ان میں آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر، سینیٹ میں ایوان کے سابق رہنما راجہ ظفرالحق، قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر سردار ایاز صادق، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر، سابق وزیر داخلہ احسن اقبال، سابق وزیر دفاع خواجہ آصف، سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید، سابق وزیر قانون رانا ثناء اللہ اور سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق شامل ہیں۔

اس کیس کی قسمت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں عابد ساقی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائدین عدالتوں سے رجوع کریں اور ایف آئی آر کو ختم کیا جائے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ انہوں نے گزشتہ سال نومبر میں طلباء یکجہتی مارچ کے شرکاء کے خلاف لاہور میں ایسے ہی مقدمات کے اندراج کو چیلنج کیا تھا جو ملک میں طلبا یونین کی بحالی کے ساتھ ساتھ بہتر تعلیمی سہولیات کا مطالبہ کررہے تھے۔

اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرنے پر ایک سینئر وکیل نے یاد دلایا کہ لاہورہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے سابق صدر مخدوم جاوید ہاشمی کو ملک سے بغاوت کے الزامات سے بری کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی پی سی کی دفعہ 124 اے کے تحت ملک بغاوت کا جرم ناقابل شناخت تھا اوریہ پولیس کی جانب سے اس جرم کا مقدمہ درج کرنے کا کوئی تصور نہیں اور یہ وفاقی حکومت کی شکایت پر ہی کیا جاسکتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں