85

کورونا وائرس کے دوران مناسک حج کا آغاز

کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث سعودی عرب میں محدود پیمانے پر مناسک حج کا آغاز ہوگیا ہے اور ایک ہزار کے قریب عازمین نے مکہ مکرمہ کے باہر وادی منیٰ کا رخ کرنا شروع کردیا ہے۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق یومِ ترویہ کے ساتھ ہی مناسک حج کا آغاز ہوتا ہے،اس میں کوئی بڑی رسومات نہیں ہیں لہذا حجاج کرام جمعرات (30 جولائی) کے طلوع آفتاب تک اپنا وقت عبادت میں صرف کریں گے۔

خیال رہے کہ منیٰ، مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کے شمال مشرق سے 7 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور عام طور پر دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی ہے جہاں 25 لاکھ حاجیوں کی رہائش کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔

تاہم عالمی وبا کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے رواں برس حاجیوں کی تعداد کو محدود کیا گیا ہے اور صرف سعودی شہری یا سعودی عرب میں موجود تارکین وطن ہی شرکت کررہے ہیں۔

تقریباً ایک ہزار عازمینِ حج، آج (29 جولائی کو) حج کے آغاز کے لیے مکہ مکرمہ کے باہر واقع وادی منیٰ کا رخ کررہے ہیں۔

رواں برس حج کے لیے منتخب ہونے والے افراد کا درجہ حرارت چیک کیا گیا تھا اور مکہ مکرمہ میں آمد کے آغاز پر انہیں قرنطینہ کیا گیا جبکہ ہیلتھ ورکرز نے ان کے سامان کو سینیٹائز کیا تھا۔

علاوہ ازیں صحت و تحفظ کے عملے نے مسجدالحرام میں مطاف کو حصے کو جراثیم سے پاک کیا جبکہ رواں برس حج حکام کی جانب سے کورونا وائرس کے خدشات کے باعث خانہ کعبہ کے گرد رکاوٹیں لگائیں گئی ہیں اور حاجیوں کو خانہ کعبہ کو چھونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

علاوہ ازیں حکام نے عازمینِ حج کی دیکھ بھال کے لیے طبی مراکز، موبائل کلینکس اور ایمبولینسز بھی قائم کی ہیں جبکہ حاجیوں کے لیے ماسک پہننا اور سماجی دوری اختیار کرنا لازم ہے۔

خیال رہے کہ مکہ مکرمہ میں آمد سے قبل تمام عازمین کے لیے کورونا وائرس کا ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا تھا اور فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد انہیں قرنطینہ کیا جائے گا۔

عازمینِ حج کو سہولت کٹس بھی فراہم کی گئی ہیں جس میں جمرات کے لیے سینیٹائزڈ کنکریاں، ڈِس انفیکٹنٹس، ماسک، جائے نماز اور احرام شامل ہیں۔

سعودی عرب کے ڈائریکٹر پبلک سیکیورٹی خالد بن قرار الحربی نے کہا کہ اس حج میں سیکیورٹی سے متعلق خدشات نہیں ہیں لیکن یہ عازمینِ حج کو عالمی وبا کے خطرے سے بچانے کے لیے ہیں۔

جمعرات کے روز حجاج کرام، خطبہ حج سننے کے لیے میدان عرفات کا رخ کریں گے، اس کے بعد وہ مزدلفہ جائیں گے اور جمرات کے لیے منیٰ واپسی سے قبل وہاں رات بھر قیام کریں گے۔

حجاج کرام کیلئے قواعد و ضوابط

خیال رہے کہ کورونا وائرس کے ابعث سعودی عرب نے رواں برس حج کی ادائیگی کے لیے حجاج کرام کی تعداد کو محدود کردیا اور اس حوالے سے متعدد قواعد و ضوابط جاری کیے گئے جن کے مطابق نماز اور طواف کے دوران خانہ کعبہ کو چھونے کی اجازت نہیں ہوگی۔

19 جولائی 2020 یعنی 28 ذیقعد 1441 ہجری سے لے کر 2 اگست، 2020 یعنی 12 ذی الحج تک منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں اجازت نامے کے بغیر داخلے کی ممانعت ہے۔

حج کے درمیان منتظمین کے لیے طواف کے دوران ہجوم میں کمی کے لیے عازمین حج کو تقسیم کرنا لازمی ہوگا جبکہ ہر شخص کے درمیان ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ ہوگا۔

مسجد الحرام کے منتظمین اس امر کو لازمی یقینی بنائیں گے کہ زائرین، سعی کی ہر منزل پر موجود ہوں اور اس دوران سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے ٹریک لائنز بنائی جائیں، علاوہ ازیں مطاف اور صفا و مروہ کی جگہ کو حج زائرین کے ہر کاررواں کے طواف اور سعی کے بعد سینیٹائز کرنے کو یقینی بنایا جائے گا۔

رواں برس خانہ کعبہ اور حجرِ اسود کو چھونا منع ہوگا اور ان مقامات تک پہنچنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں لگائی جائیں گی۔

ساتھ ہی مسجد الحرام سے قالین ہٹادیے گئے جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات میں کمی کے لیے ہر حاجی کو اپنی جائے نماز استعمال کرنے کی ہدایت کی جائے گی، مسجد الحرام میں کھانے کی اشیا لانے پر پابندی ہوگی اور مسجد کے صحن میں بھی کھانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

حجاج کرام کے داخلے اور باہر نکلنے کو آسان بنانے، ہجوم اور بھگدڑ سے بچاؤ کے لیے مخصوص داخلی اور خارجی مقامات مختص کیے گئے ہیں۔

علاوہ ازیں مزدلفہ اور عرفات میں عازمین کو ہر وقت سماجی فاصلے پر لازمی عمل کرنا ہوگا، ماسکس پہننے ہوں گے اور منتظمین کے لیے 50 مربع گز کے خیمے میں 10 سے زائد عازمین حج موجود نہ ہوں اور ہر ایک کے درمیان ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ یقینی ہو۔

اس کے ساتھ ہی جن عازمین کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا شبہ ہونے پر انہیں مکمل طبی معائنے کے بعد حج کی اجازت دی جائے گی اور انہیں مشتبہ کیسز کے مخصوص گروہوں میں شامل کیا جائے گا، ان کی حالت کو دیکھ کر متعلقہ رہائش گاہ اور الگ ٹریکس کی بسیں مختص کی جائیں گی۔

عازمین کی محدود تعداد کے ساتھ حج کی اجازت

خیال رہے کہ 24 جون کو سعودی عرب کی حکومت نے حج کی ادائیگی کی اجازت دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث حج 2020 کے لیے عازمین کی تعداد کو محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزارت کی جانب سے جاری تفصیلی بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘ہجوم اور لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہونے سے کورونا کے پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا ہے کہ رواں برس حج محدود عازمین کے ساتھ ہوگی’۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘سعودی عرب میں مقیم مختلف ممالک کے شہری حج کی ادائیگی کرپائیں گے اور یہ فیصلہ حج کو محفوظ طریقے سے ادا کرنے کے لیے کیا گیا ہے’۔

خیال رہے کہ حج کی ادائیگی کے لیے دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان ہر سال سعودی عرب جاتے ہیں اور رپورٹس کے مطابق گزشتہ برس تقریباً 25 لاکھ مسلمانوں نے حج ادا کیا تھا۔

تاہم رواں برس کورونا وائرس کے باعث سعودی عرب کے علاوہ دیگر ممالک سے حج کے لیے کوئی نہیں آسکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں