52

ایڈیشنل ڈائریکٹر کو ‘ترجمان کی حیثیت’ سے کام کرنے پر معطل کیا گیا، ایف آئی اے

لاہور: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے ایک بیان جاری کیا ہے کہ انہوں نے ایک افسر کو ‘غیرسرکاری‘ ترجمان کے طور پر کام کرنے کی وجہ سے معطل کیا۔

سائبر کرائم ونگ کے ترجمان کی جانب سے گزشتہ روز فیس بک پر جاری بیان میں کہا گیا کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف اقبال کو معطل کردیا گیا اور ان سے سائبر کرائم ونگ لاہور کا نجی ٹوئٹر اکاؤنٹ رکھنے پر وضاحت طلب کی گئی۔

بیان میں کہا گیا کہ وہ اپنی مرضی سے کسی اجازت کے بغیر سائبر ونگ کے ترجمان کا کردار ادا کررہے تھے جو تادیبی اصولوں کے خلاف ہے۔

مذکورہ بیان سے ایک غیر معمولی کیس میں ایک اور موڑ آیا ہے جہاں ادارے نے اپنے ہی عملے کے ایک فرد کو منظم کرنے کی کوشش کی تھی، ایف آئی اے کا یہ قدم لامحالہ طور پر ان مقدمات سے منسلک ہے جن میں حالیہ دنوں آصف اقبال پیشہ وارانہ طور پر شامل تھے۔تحریر جاری ہے‎

چند روز قبل محمد آصف اقبال نے گلوکارہ میشا شفیع اور دیگر 8 افراد کے خلاف سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر گلوکار علی ظفر کے خلاف مذموم مہم چلانے پر سائبر کرائم کا مقدمہ درج کیا تھا۔

مقدمہ درج ہونے کے نتیجے میں احتجاج ہوئے تھے جن میں ایف آئی اے عہدیدار پر ایسے حالات کو فروغ دینے کا الزام لگایا گیا تھا جو ایک اہم وقت میں میشا شفیع کے خلاف جاسکتے ہیں۔

ڈان نے ایک سرکاری ذرائع کا حوالہ دیا تھا جس نے کہا تھا کہ محمد آصف اقبال کو ایک ٹوئٹ کی بنیاد پر معطل کیا گیا تھا جس میں انہوں نے سائبر کرائم سے متعلق قانون کے ایک سیکشن پر روشنی ڈالی تھی۔

ان کی جانب سے یہ ٹوئٹ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے ان 9 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے کچھ روز بعد کی گئی تھی۔

ٹوئٹ میں کہا گیا تھا کہ جو بھی فرد عوامی سطح پر غلط معلومات پھیلاتا ہے جو کسی شخص کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہو تو وہ سائبر کرائم ایکٹ کے سیکشن 20 کے تحت جرم کا مرتکب ہے اور قانون میں سوشل میڈیا کے ذریعے جعلی خبریں پھیلا کر کسی دوسرے فرد کی ساکھ کو نقصان پہنچانے میں ملوث فرد کو 3 سال قید یا 10 لاکھ روپے جرمانے یا دونوں کی تجویز دی گئی ہے۔

آصف اقبال کی معطلی سے متعلق خبر، ایف آئی اے کی تاریخ کی ایک منفرد مثال معلوم ہوتی ہے جہاں ادارے نے خود ہی مبینہ طور پر آنکھوں میں دھول ڈالے جانے کا دعویٰ کیا جسے کچھ گروہوں نے میشا شفیع کے خلاف مہم کے طور پر سمجھا۔

مختلف ذرائع سے موصول ہونے والے پیغامات سے عندیہ ملتا ہے کہ آنے والے دنوں میں آصف اقبال کے طرز عمل سے متعلق اس معاملے میں مزید تفصیلات سے اس تاثر کو ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ آصف اقبال کو پہلے بھی ادارے کی جانب سے 2 نوٹسز جاری کیے گئے تھے جس میں انہیں سرکاری حیثیت میں سوشل میڈیا کے استعمال سے روکا گیا تھا۔

عہدیدار نے کہا کہ انہوں نے اسی (مذموم مہم) کیس سے متعلق ٹوئٹ کی جو انہوں نے درج کیا تھا، اس طرح وہ اس معاملے میں فریق بن رہے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت آصف اقبال کے خلاف کوئی انکوائری نہیں چل رہی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں