36

30 ستمبر سے ملک بھر میں پرائمری اسکول کھولنے کا اعلان

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے 30 ستمبر سے ملک بنھر میں پرائمری اسکول کھولنے کا اعلان کردیا ہے۔س

اسلام آباد میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس کے بعد وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شفقت محمود نے پرائمری اسکول کھولنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم نے بہت اہم فیصلہ کیا اور یہ اہم فیصلہ یوں ہے کہ سب سے زیادہ تعداد میں طالبعلم پرائمری سطح پر ہیں اور تقریباً 3کروڑ بچے پرائمری کی تعلیم حاصل کرتے ہیں، اس لیے فیصلہ انتہائی سوچ بچار کے بعد لیا گیا ہے۔تحریر جاری ہے‎

وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ آج نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں منعقدہ اجلاس میں ہم نے سارے صوبوں اور اکائیوں کو شرکت کی دعوت دی اور سارے فیصلے بہت گفت و شنید اور سب کی رائے لینے کے بعد کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان بھر کے پرائمری اسکول وہ 30ستمبر سے کھول دیے جائیں اور یہ فیصلہ ہم نے اپنے پاس موجود اعدادوشمار کو دیکھتے ہوئے کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 15 ستمبر سے اسکول کھلنے کے بعد سے اب تک ایک لاکھ 71ہزار 436 ٹیسٹ اسکولوں، ٹیچرز اور طالبعلموں کے کیے گئے اور اس میں سے صرف 1284 ایسے کیسز تھے جن کا ٹیسٹ مثبت آیا اور یہ شرح 0.8فیصد ہے جس کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ سارے اسکول کھول دیے جائیں۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ میں والدین کو تسلی دینا چاہتا ہوں کہ ہم اسکولوں کی متعلقہ وزرا اور افسران کے ذریعے نگرانی کررہے ہیں اور گزشتہ دنوں جو اسکول ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کر رہے تھے انہیں بند کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ اس سے زیادہ بڑھ کر ٹیسٹ کیے جائیں گے، نگرانی کی جائے گی اور ایس او پیز پر عمل کیا جائے گا اور جو شرائط پر عملدرآمد نہیں کریں گے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

شفقت محمود نے مزید کہا کہ ابھی تک اسکول کھلنے کے بعد 15 دن میں انتظامیہ، اساتذہ اور والدین نے محنت کی ہے، حالات کو بہتر کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے جو قابل تحسین ہے، ایس او پیز کو فالو کرنے میں جو کاوش کی ہے، ان ساری چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بجا طور پر کہنا ہو گا کہ یہ مجموعی کوشش تھی۔

یہ بھی پڑھیں: تعلیمی اداروں کا کھلنا اور والدین کی بڑھتی پریشانی!

ان کا کہنا تھا کہ اسکول جانے والے چھوٹے بچوں کے لیے دو چیزیں بہت ضروری ہیں کیونکہ ان کے لیے خود سے ان شرائط کی پابندی کرنا ممکن نہیں لہٰذا اساتذہ اور والدین کا کردار اور بڑھ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان دو اہم کاموں میں سے ایک یہ ہے کہ بچوں کو ایک جگہ اکٹھا نہ ہونے دیا جائے اور انہیں کہیں کہ ماسک پہننا بہت ضروری ہے اور مجھے امید ہے کہ ہم اس مشکل مرحلے سے بھی کامیابی سے آگے بڑھیں گے۔

واضح رہے کہ 26 فروری کو سندھ میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد سے صوبے بھر کے تعلیمی اداروں کو بند کردیا گیا تھا۔

ملک میں کم و بیش چھ ماہ تعلیمی ادارے مستقل بند رہنے کے بعد ملک میں صورتحال بہتر ہونے کے نتیجے میں تعلیمی سرگرمیوں کو بھی مرحلہ وار بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

15 ستمبر سے سندھ سمیت ملک بھر میں نویں، دسویں، کالجز اور جامعات کے طلبہ کے لیے تعلیمی سرگرمیاں بحال ہوئی تھیں۔

دیگر صوبوں نے مڈل اسکول بھی کھول دیے لیکن سندھ میں 21 ستمبر سے مڈل اسکولز کھولنے کے فیصلے کو ایک ہفتے کے لیے مؤخر کردیا گیا تھا جس کے بعد 28ستمبر سے صوبہ سندھ میں مڈل اسکولز کو پرائمری اسکولز کے ساتھ کھول دیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں