49

سی سی پی او لاہور کے اپنے ذاتی سیکریٹری کو ‘گرفتار کروانے پر ملازمین کا احتجاج

لاہور: کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) عمر شیخ نے اپنے ذاتی سیکریٹری 16 ویں گریڈ کے عہدیدار عبدالستار کو مختصر وقت کے لیے گرفتار کرلیا۔

سی سی پی او دفتری کام میں معمولی خامی پر اپنے ذاتی سیکریٹری سے ناخوش تھے اور انہوں نے انہیں اپنے دفتر بلایا جہاں مبینہ طور پر ان سے بدزبانی کی اور انہیں ‘گرفتار’ کرلیا۔

اس حوالے سے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ عمرشیخ نے سول لائن کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) کو حکم دیا کہ وہ عبدالستار کو پولیس اسٹیشن میں لے کر آئیں اور ان سے (سی سی پی او) کی ‘نافرمانی’ کرنے پر ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں سلاخوں کے پیچھے بھیجیں۔

انہوں نے کہا کہ جیسے ہی سی سی پی او دفتر سے گئے ان کے اس عمل سے خوف و ہراس پھیل گیا اور ماتحت اسٹاف میں سخت ناراضی بھی دیکھی گئی۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے ملازمین نے دھمکی دی کہ وہ سی سی پی او کے جونیئر عہدیداروں کے خلاف ‘پرتشدد اور غیرانسانی’ رویے کے خلاف سوشل میڈیا پر معاملے کو اٹھائیں گے۔

مزید یہ کہ ان کے بقول ملازمین نے یہ بھی خبردار کیا کہ ان کے ساتھی عبدالستار کی رہائی اور سی سی پی او کی جانب سے معافی تک وہ دفتر میں واپس نہیں آئیں گے۔

واقعے کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمر شیخ نے اپنے ذاتی سیکریٹری سمیت مخصوص عہدیداروں کا اجلاس اتوار کو رات 2 بجے بلایا تھا اور یہ 2 گھنٹے بعد ختم ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بعد ازاں ملازمین آرام کے لیے اپنے گھروں کو چلے گئے، جس کے بعد سی سی پی او نے دوبارہ انہیں صبح میں بلا لیا اور انہیں دیے گئے کام کے بارے میں رپورٹ مانگی۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ ‘ان کے ذاتی سیکریٹری نے رات کو نیند آنے کی وجہ سے کام مکمل ہونے میں کچھ تاخیر کا کہا، اس جواب نے سی سی پی او کو مشتعل کردیا اور انہوں نے غصے میں آنے کے بعد ان کی گرفتاری کا حکم دیا’۔

تاہم اپنے دفتر کے ماتحت اسٹاف کے متوقع غصے سے متعلق انہیں آگاہ کرنے پر انہوں نے ایس ایچ او کو اپنے ذاتی سیکریٹری کو رہا کرنے کی ہدایت کردی۔

یہ بھی پڑھیں: ‘سی سی پی او کا بیان مناسب نہیں، انتظامی معاملات میں الجھے تو ہدف حاصل نہیں کرسکتے’

خیال رہے کہ عمر شیخ سی سی پی او لاہور کا چارج سنبھالنے کے بعد سے شہہ سرخیوں میں ہیں، وہ اپنے ریمارکس میں غیرمحتاط دکھائی دیتے ہیں اور جارحانہ پالیسی اپناتے ہیں جس نے فورس میں خوف و ہراس کی لہر پھیلا دی ہے۔

اس سے قبل انہوں نے محکمہ جاتی طریقہ کار کو بائی پاس کرتے ہوئے کچھ پولیس ملازمین کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔

علاوہ ازیں ان میں سے کچھ نے آئی جی پی کو ان کے خلاف تحریری شکایت درج کروائی تھی کہ وہ لاہور پولیس چیف کے جونیئر ملازمین کے خلاف غیرقانونی کارروائی کا نوٹس لیں۔

اس تمام صورتحال پر سی سی پی او نے کوئی جواب دینے سے انکار کردیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں