50

”کئی سال قبل لاہور کے ایک دفتر میں کیا واقعہ پیش آیا تھا ؟“

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد اظہار الحق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔سوال یہ ہے کہ خالی مکان میں یا ویران جنگل میں یا گاڑی کے اندر لڑکی کیسے بچے ؟ ایک ہزار سال بھی سوچتے رہیے‘ سینکڑوں تھنک ٹینک بنا کر ان کی رپورٹیں پڑھ لیجیے۔ لڑکیوں کے بچاؤ کا صرف اور صرف ایک ہی

طریقہ ہے اور وہ ہے سیلف ڈیفنس! اپنا بچاؤ خود! اور یاد رکھیے جب لڑکیوں کو سیلف ڈیفنس کی تربیت دی جانے لگے گی‘ تو دو طبقات سب سے زیادہ مخالفت کریں گے۔ فیوڈل اور مذہبی حضرات۔ہمیں بتایا جاتا ہے اور فخر کے ساتھ بتایا جاتا ہے کہ صدر اوّل میں مسلمان خواتین گھڑ سواری‘ تیر اندازی اور شمشیر زنی کی ماہر تھیں۔ ایک واقعہ میں صحابیاتؓ نے خیموں کی چوبوں سے دشمن کو پسپا کیا تھا۔ امِ عمارہؓ نے احد کے میدان میں ہتھیاروں سے لیس ہو کر آپﷺ کا دفاع کیا۔درجنوں ایسے واقعات تاریخ میں ملتے ہیں۔ حضرت انس ؓکی والدہ ام سلیم ؓغزوہ حنین کے دوران خنجر سےلیس تھیں۔ یہ سب تاریخ کا حصہ ہے اور ہمیں یہ تاریخ سنائی بھی جاتی ہے مگر ہماری لڑکیوں کی حالت یہ ہے کہ چھوئی موئی بن کر رہ گئی ہیں۔ کوئی لڑکا گلی میں چھیڑتا ہے‘ بکواس کرتا ہے یا تعاقب کرتا ہے تو آگے سے zombieکی طرح‘ سر جھکا کر چلتی رہتی ہیں۔ ہاتھ اٹھتا ہے نہ لات بدمعاش کے پیٹ پر پڑتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بدمعاش کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے۔ وہ ہراساں کرنے کے اس عمل کو روز کا معمول بنا لیتا ہے اور اپنے سفلہ دوستوں کو بھی ساتھ لے آتا ہے۔ یاد رکھیے‘ چور اور غنڈہ بنیادی طور پر بزدل ہوتا ہے۔ عورت سے تھپڑ کھانے کے بعد وہ جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے۔ اب یہ بدمعاش ہتھیار بھی رکھنے لگے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ لڑکی اپنے دفاع کی خاطر کیوں نہیں ہتھیار رکھ سکتی ؟ کیا یہ کسی آسمانی کتاب میں لکھا ہے کہ لڑکی کے ہینڈ بیگ میں ہتھیار نہیں ہونا چاہیے ؟ یا اس کے پاس ہتھیار ہوا تو وہ دین کے دائرے سے خارج ہو جائے گی؟

یورپ میں سفر کے دوران دیکھا ہوا ایک منظر آج تک نہیں بھولا۔ ریل کے ڈبے میں‘ سامنے والی نشست پر ایک لڑکی اور تین لڑکے بیٹھے ہوئے تھے۔ وضع قطع‘ گفتگو اور ہنسی مذاق سے ظاہر ہو رہا تھا کہ کسی یونیورسٹی کے طالب علم ہیں اور چاروں دوست ہیں۔ اتنے میں لڑکی نے اپنے بیگ سے چاکلیٹ نکالی اور کھانا شروع کر دی۔لڑکوں نے حصہ مانگا تو اس نے ہنس کر جھنڈی دکھا دی۔ تینوں لڑکوں نے اس سے بزور چاکلیٹ چھیننا چاہی مگر وہ کھاتی بھی رہی‘ ہنستی بھی رہی اور اپنا دفاع بھی کرتی رہی۔ لڑکوں نے چاکلیٹ والے ہاتھ تک پہنچنے کے لیے پورا زور لگایامگر اس نے تینوں کو روکے رکھا یہاں تک کہ اس نے اپنی چاکلیٹ پوری ختم کر دی۔ پاکستان کے ایک حکومتی دفتر میں پیش آنے والا واقعہ بھی یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ سیلف ڈیفنس لڑکیوں کے لیے کس قدر لازم ہے۔ شہراور محکمے کا نام نہیں بتاتے نہ کوئی اور اشارہ دیتے ہیں نہ ہی یہ تصریح کرنے کی ضرورت ہے کہ دفتر وفاقی تھا یاکسی صوبے کا۔اس لیے کہ مقصد کسی کی عزت اچھالنا نہیں‘ سبق حاصل کرنا ہے اور فیصلے کی طرف بڑھنا ہے۔ ایک خاتون افسر تھی۔ جوان مگر سخت ریزرو! باس کے کمرے میں جاتی تو کبھی نہ بیٹھتی۔ کھڑے ہو کر کام کی بات کرتی اور پھر واپس۔ ایک دن جوائنٹ سیکرٹری صاحب ترنگ میں تھے۔ انہوں نے بیٹھنے کے لیے کہا اور چائے کی دعوت دی۔ اس نے کہا کہ سر! میں نے کام کی بات کر لی ہے۔ رہی چائے تو وہ میں اپنے کمرے ہی میں پیاکرتی ہوں۔ افسر اٹھا اور اسے بازو سے پکڑ کر شاید بٹھانے کوشش کی۔ اس کے بعد‘ عینی شاہد کہتا ہے کہ نہ جانے کیا ہوا‘ مگر جو کچھ بھی ہوا بجلی کی رفتار سے ہوا اور صاحب زمین پر چت پڑے تھے۔ اس لیے کہ خاتون افسر نے یونیورسٹی سے صرف ایم اے کی ڈگری ہی نہیں لی تھی بلکہ بلیک بیلٹ بھی حاصل کی تھی!لڑکیوں کے لیے ہر سکول میں‘ خواہ غریبانہ سرکاری سکول ہو یا طبقہ امرا کا گراں بہا سکول‘ سیلف ڈیفنس کی تربیت لازمی کی جائے۔ جوڈو کراٹے ہو یا کَنگ فو یا کِک باکسنگ‘ یا مارشل آرٹ کی کوئی اور قسم‘ خدا کے لیے لڑکیوں کو سکھائیے ورنہ یاد رکھیے یہ ملک ظاہر جعفروں سے لبا لب بھرا ہے !کیا وزیر اعظم حکم جاریں گے کہ ہر سکول‘ ہر کالج میں لڑکیوں کے لیے سیلف ڈیفنس کی تربیت لازمی ہو گی؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں