21

”سعودی عر ب کی ایک غار سے ہڈیوں کا پہاڑ دریافت، انسانی ہڈیاں بھی شامل ‎“

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) سعودی عرب میں ماہرین آثارقدیمہ نے آتش فشاں پہاڑ کی ایک غارسے انسانوں اور مختلف قسم کے جانوروں کی ہڈیوں کا ایک پہاڑ دریافت کیا ہے جو کہ لگڑ بگوں کا بنایا ہوا ہے ، ماہرین کے مطابق لگڑ بگے اس پہاڑ کو ہزاروں سال تک استعمال کرتے رہے وہ اپنے شکار کو دبوچ کر اس پہاڑ کی غار تک لاتے اور ان کی ہڈیاں یہاں جمع ہوتی رہیں ہیں ۔ یہ غار سعودی عرب کے علاقے ام جیرسان میں واقع ہے۔ غار سے انسانوں سمیت گھوڑوں، بکریوں، ہرنوںسمیت 40مختلف اقسام کے جانوروں کی ہڈیاں برآمد ہوئی ہیں ۔

یہ غار 7ہزار سال قدیم ہےاور یہ 2007ءمیں دریافت کی گئ تھی ۔ واضح رہے کہ اس قبل سعودی عرب میں ماہرین آثار قدیمہ نے تاریخی شہر العلا سے قدیم زمانے کے انسانوں اور کتوں کی ہڈیاں دریافت کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا تھا کہ ایک دوسرے کے قریب سے ملنے والی ان ہڈیوں کی موجودگی سے پتا چلتا ہے کہ قدیم زمانے میں جزیرۃ العرب میں انسان اور کتوں کے ایک ساتھ رہنے کایہ ثبوت ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ ہڈیاں العلا گورنری کی شاہی اتھارٹی کے زیر اہتمام ہونے والی کھدائیوں کے دوران حاصل کی گئی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کتے کی ہڈیاں ایک پرانے مدفن سے ملی ہیں۔ یہ سعودی عرب میں قدیم زمانے میں کتے کی اب تک کہ پہلی ہڈیاں ہیں۔ یہ ہڈیاں بلاد شام کے انتہائی شمال سے ملنے والی ہڈیوں کی معاصر ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق یہ ہڈیاں 4300 قبل مسیح ہیں اور ان میں تقریبا 600 سال تک کی قبروں کی باقیات ملتی ہیں۔

یہ غالبا پتھر کے دور میں رہنے والے انسانوں کی ہڈیاں ہیں۔ ان ہڈیوں کے وجود سے پتا چلتا ہے کہ جزیرۃ العرب میں انسان کتنا قدیم دور سے آباد چلا آ رہا ہے۔سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی ‘ایس پی اے کے مطابق العلا میں فضائی سروے پروگرام کی معاون ڈائریکٹر میلیسیا کینیڈی نے بتایا کہ العلا میں کھدائیوں سے ملنے والی ہڈیاں پتھر کے دور میں مشرق وسطیٰ کے دوسرے خطوں سے ملنے والی ہڈیوں کی معاصر معلوم ہوتی ہیں۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر ھیو تھامس کا کہنا ہے کہ العلا کے تاریخی آثار مشرق وسطیٰ‌میں انسانی ترقی کے حوالے سے اہم شواہد کا پتا دیتے ہیں۔ انسانوں کے ساتھ کتوں کی ہڈیوں کا ملنا جزیرۃ العرب میں انسانوں کے ساتھ کتوں کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ اس بارے میں مزید تفیصلات سائنسی جریدے”The Journal of Field Archaeology” میں شائع کی جائیں گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں