22

شام سے اسرائیل کی جوہری تنصیبات پر حملہ

دمشق ، تل ابیب(مانیٹرنگ+ آن لائن )شام سے اسرائیل کی جوہری تنصیبات پر میزائل حملہ کیا گیا، راکٹ تنصیبات سے صرف 30کلومیٹر دور پھٹا، دوسری جانب اسرائیلی فوج نے شام پر جوابی فضائی بمباری کا دعویٰ کیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ فضائی بمباری جمعرات کی صبح کی گئی، اسرائیلی طیاروں نےمیزائل لانچنگ پیڈ اور دفاعی نظام کو نشانہ بنایا۔ دوسری جانب اسرائیلی حکام نے میزائل ڈیفنس سسٹم نصب کی میزائل روکنے میں ناکامی کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ شام سے داغا جانے والا میزائل 400 کلومیٹر کی مسافت طے کرکے جنوبی اسرائیل

پہنچا تھا۔ شام کا ایک طیارہ شکن میزائل جنوبی اسرائیل کی خفیہ جوہری تنصیبات سے 30 کلو میٹر دور پھٹا ہے۔دیومنا کے علاقے میں خطرے کے سائرن بجائے گئے جس کے بعد ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی۔ اس واقعے میں کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ یہ میزائل ان بہت سے میزائلوں میں شامل تھا جو اسرائیل کے جنگی طیاروں کو نشانہ بنانے کے لیے شام سے داغے گئے تھے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے شام کی کئی طیارہ شکن بیٹریوں کو جواباً نشانہ بنایا۔ شام کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے دمشق کے قریب کئی جگہوں پر حملہ کیا۔شامی حکام کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کی طرف سے چلائے گئے زیادہ تر میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا لیکن چار شامی فوج زخمی ہوئے ہیں اور کچھ املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔اسرائیل اکثر شام پر حملے کرتا رہتا ہے اور اس کا دعوی ہے کہ وہ ان جگہوں کو نشانہ بناتا ہے جہاں ایران کے پاسداران انقلاب اپنے اڈے قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ شام میں ایران کی فوجی اور عسکری موجودگی کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔اسرائیل کی فوج نے نیجیو صحرا میں پھٹنے والے میزائل کے بارے میں کہا ہے کہ یہ زمین سے فضا میں مار کرنے والا ایس اے فائیو میزائل تھا۔اسرائیل فوج نے کہا کہ یہ میزائل اپنے ہدف سے دور آ کر گر اور یہ اسی وقتچلایا گیا تھا جب اسرائیل جنوبی شام کے علاقوں پر فضائی حملہ کر رہا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اسرائیل کا انتہائی جدید میزائل دفاعی نظام اس میزائل کو فضا ہی میں تباہ کرنے میں ناکام رہا۔ میزائل کے ٹکڑے دیمونا کے جنوبی مشرقی حصے میں ملے ہیں لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ایس اے فائیوں میزائل کے ہیں یا اس کو تباہ کرنےکے لیے چلائے گئے دفاعی میزائلوں کے ہیں۔اس علاقے کی ایک رہائشی سونیا رویوو نے اسرائیل اخبار کو بتایا کہ ‘میں نے ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی۔ کچھ دیر انتظار کیا اور اس کے بعد یہ دیکھنے کے لیے کہ کیا ہوا ہے باہر نکلی۔’انہوں نے کہا کہ ‘دوسری صبح ان کے شوہر نے انھیں باہر بلایا اور مجھے راکٹ کے ٹکڑے دکھائے۔ یہدیکھ کر بہت خوف محسوس ہوا میرے شوہر رات تک باہر کھلے آسمان تلے کام کرتے ہیں۔ کوئی وارننگ نہیں دی گئی کچھ معلوم نہیں تھا۔’اسرائیل فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جواباً شام کی مزید طیارہ شکن بیٹریوں کو نشانہ بنایا۔ایک شامی فوج کے اہلکار نے ثنا نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اسرائیل فوج نے فضائی جارحیت کی اور گولان کیپہاڑیوں کی جانب سے میزائلوں کی بوچھاڑ کی جن میں دمشق کے آس پاس مختلف جگہوں کو نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ بیشتر میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔برطانیہ میں قائم شام کی انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے تنظیم سیرین آبزرویٹری نے اطلاع دی ہے کہ دمشق سے 40 کلو میٹر شمال مشرق میں شامی فوج کے ایک فضائیدفاع کے اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں شامی فوج کا ایک افسر ہلاک ہو گیا ہے۔اس فوجی اڈے پر اسلحے کا ڈپو ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اڈہ اسد حکومت کی طرف سے شامی باغیوں کے خلاف لڑنے والے ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کے استعمال میں ہے۔اسرائیل کے ایک دفاعی ماہر اوزی روبن نے روائٹرز نیوزایجنسی سے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایس اے فائیو میزائل اپنے ہدف سے دور آ کر اسرائیل کے کافی اندر آ کر گرا ایسا بعید از قیاس نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر شامی فوج کا دیمونا کے جوہری تنصیب کو نشانہ بنانے کا ارادہ ہوتا تو وہ اس کے لیے زیادہ طاقت ور سکڈ میزائلوں کو استعمال کرتے۔دیمونا کی جوہری تنصیب میںاسرائیل کے جوہری ہتھیار بنائے جاتے ہیں لیکن اسرائیل اس کی تردید کرتا ہے نہ تصدیق اور اس نے سالہا سال سے اس بارے میں دانستاً ابہام کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے فضائی دفاع کو دیمونا اور بحیرہ احمر کی بندرگاہ ایلات کے اردگرد شام اور خطے میں موجود ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کیطرف سے حملے کے خطرے کے پیش نظر بڑھا دیا ہے۔اسرائیل اور ایران خطے کے دو دیرینہ دشمنوں کے درمیان ایران کے جوہری پلانٹ نتطنز پر اسرائیل کے سائبر حملے کے بعد سے خطرناک حد تک کشیدگی ہے۔اسرائیل نے سرکاری سطح پر اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن اسرائیل کے ذرائع ابلاغ اور جرائد میں دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ حملہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے کیا تھا۔

موضوعات:

کوئی گنجائش نہیں

’’وزیراعظم تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ ساتھ اپنے وزراء کے رویے پر بھی حیران ہیں‘ کابینہ کا کوئی وزیر اس ایشو پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں‘ وزیراعظم جس کو ہدایت کرتے ہیں وہ فوراً بیمار ہو جاتا ہے‘ وزیر داخلہ شیخ رشید بھی قومی اسمبلی میں سوا منٹ تقریر کر کے بیمار ہو گئے اور باقی ذمہ داری ….مزید پڑھئے‎

’’وزیراعظم تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ ساتھ اپنے وزراء کے رویے پر بھی حیران ہیں‘ کابینہ کا کوئی وزیر اس ایشو پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں‘ وزیراعظم جس کو ہدایت کرتے ہیں وہ فوراً بیمار ہو جاتا ہے‘ وزیر داخلہ شیخ رشید بھی قومی اسمبلی میں سوا منٹ تقریر کر کے بیمار ہو گئے اور باقی ذمہ داری ….مزید پڑھئے‎



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں