22

تحریک سے معاہدہ ، پنجاب پولیس کا اظہار ناراضگی قربانی کا بکرا بنانے پر حکومت سے شکوہ کردیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت نے تحریک کو کالعدم قرار دے دیا جبکہ 2روز بعد ہی ان سے معاہدہ کر لیا۔لیکن اس معاہدے کو لے کر پولیس افسران میں خاصی تشویش پائی جارہی ہے کیونکہ دھرنے کے دوران سینکڑوں پولیس اہلکار نہ صرف شدید زخمی ہوئے بلکہ پانچ پولیس اہلکاروں نے اس راہ میں اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کیا۔میڈیا رپورٹس کےمطابق حکومت پنجاب اور تحریک کے مابین ہونے والے معاہدے پر پنجاب پولیس کی سینئر کمانڈ پریشان دکھائی دیتی ہے۔کچھ سینئر عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت کے فیصلے نے نہ صرف پولیس فورس کو مایوسی کا شکار کیا بلکہ

ایسے گروپوں کو یہ پیغام بھی دیا کہ ریاست کسی بھی دبائوپر کسی بھی وقت پیچھے ہٹ سکتی ہے۔پولیس افسران نے متنبہ کیا کہ تحریک کے سینکڑوں کارکنوں کی بغیر کسی سزا کے رہائی آپریشن میں حصہ لینے والوں کے لیے اچھی ثابت نہیں ہو گی۔اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے پولیس افسران کا کہنا ہے کہ اس معاہدے نے پولیس فورسز کی قربانیوں کو رسوا کیا جسے ہمیشہ قربانی کا بکرا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ یکے بعد دیگرے حکمران پولیس کو اپنے سیاسی مفادات کے لئے استعمال کرتے رہتے ہیں۔پہلے پولیس کو احکامات دیے جاتے ہیں اور پھر ان کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے۔ایک پنجاب پولیس کے اہلکار کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس کی سینئرکمانڈ نے متعدد رسمی اور غیر رسمی ملاقاتوں میں کارکنوں کی رہائی کے لئے حکومت کے معاہدے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔خاص طور پر پنجاب پولیس افسران کا ردعمل اس وقت سامنے آیا جب وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے معاہدے کی تفصیلات پڑھ کر اس سلسلے میں ایک ویڈیو بیان جاری کیا۔ویڈیو میں وفاقی وزیر نے تمام کارکنوں کی رہائی پر اتفاق کرنے سے متعلق آگاہ کیا۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں