28

پیپلز پارٹی کامریم نواز سے اختلافات کے بعد حمزہ شہباز سے روابط بڑھانے کا فیصلہ

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی )ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز سے اختلافات کے بعد پیپلز پارٹی نے نئی سیاسی حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کرلیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی حکمت عملی کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز سے روابط بڑھائے گی ، اس سلسلے میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اورپنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کے درمیان جلد رابطہ متوقع ہے ، پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی جگہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو اپوزیشن

اتحاد پی ڈی ایم میں شامل کرنے کی تجویز دئیے جانے کا بھی امکان ہے، پاکستان پیپلزپارٹی کے بعض رہنمائوں کا خیال ہے کہ سابق وزیر اعظم نوازشریف کی صاحبزادی کے طرز سیاست کی وجہ سے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے ، اس لیے پیپلزپارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اب مسلم لیگ ن میں ٹھنڈے مزاج رکھنے والے رہنمائوں سے روابط بڑھائے جائیں گے۔علاوہ ازیں پاکستان پیپلز پارٹی نے پنجاب اسمبلی کے ایوان میں ان ہائوس تبدیلی کے لئے سرگرمیاں شروع کر دیں اور آنے والے دنوں میں اس میں مزید تیزی لائی جائے گی ، پیپلز پارٹی نے عددی اکثریت حاصل ہونے کے باعث مسلم لیگ (ن) کو اپنا وزیر اعلیٰ لانے کی پیشکش بھی کر دی ۔پیپلز پارٹی کے پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضیٰ نے عید کے بعد قوم کو بڑا تحفہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو ان ہائوس تبدیلی کا تحفہ دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکمران جماعت کے 25 سے 30 ارکان پنجاب اسمبلی رابطے میں ہیں،پنجاب میں ان ہائوس تبدیلی کے لیے قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز شریف سے رابطوں کا فیصلہ کیا گیا ہے ،عددی اکثریت کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) اپنے وزیراعلی کا اعلان کرے پیپلزپارٹی ساتھ دے گی۔انہوں نے کہا کہ آج پنجاب میں تمام طبقات سڑکوں پر ہیںحتیٰ کہ گونگے بہرے بھی احتجاج کر رہے ہیں، اس کا کریڈٹ حکومت کو جاتا ہے کہ اب گونگے اور بہرے بھی بول پڑے ہیں۔مہنگائی بیروزگاری اور انارکی بڑھتی جا رہی ہے،پنجاب کا وزیر اعلی نا اہل، ناکام اور نکھٹو ہے،یہ ہمارا کسٹوڈین نہیں بن سکتا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں تبدیلی نا گزیرہو چکی ہے،پی ٹی آئی کے 25سے 30ممبران ہم سے سوال کرتے ہیں کہ آپ پنجاب میں تبدیلی کیوں نہیں لاتے۔شہباز اور حمزہ سے رابطہ کر کے بات کریں گے کہ بطور اکثریتی جماعت آگے آئیں،وزارت اعلی ان کا حق بنتا ہے، ہم نے اب آواز بلند نہ کی تو حکومت کے شریک جرم ٹھہریں گے۔قوم کو کو عید کے بعد پنجاب میں تبدیلی کی عیدی دیں گے ،جدوجہد اور رابطے تیز کرینگے،اسمبلیوں سے استعفے نہ دینے کے (ن) لیگ کے بیانیے کا خیر مقدم کرتا ہوں۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں