23

کرونا کی تیسری لہر خطرناک، اسپتالوں‌ میں‌ گنجائش ختم، ملک بند ہو گا یا نہیں ، وزیراعظم کا قوم کیلئے بڑا اعلان

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک /آن لائن)وزیراعظم عمران خان نےقوم کے نام جاری پیغام میں کہا ہے کہ کرونا وباء کی تیسری لہر انتہائی خطرناک ہے ، روزانہ سامنے آنے والے کیسز سے اسپتالوں میں گنجائش ختم ہو چکی ہے ۔ملک بند نہیں کریں گے ۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کروناسے متعلق قوم کے نام جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’میں نےکرونا سے محفوظ رہنے کے لیےایک سال احتیاط کی اور کسی نجی تقریب میں شرکت نہیں کی مگر سینیٹ الیکشن کے دوران احتیاط نہیں کرسکا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کروناوباء کی تیسری لہرانتہائی خطرناک ہے، ہم

اپنا ملک بند نہیں کرسکتے کیونکہ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں ہیںالبتہ قوم ذمہ داری کا ثبوت دے اور کرونا ایس او پیز پر پوری طرح عمل کرے تاکہ اس خوفناک لہر سے بچا جا سکے ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تعمیرات کے شعبہ کے ساتھ 30 صنعتیں جڑی ہوئی ہیں جس سے لوگوں کو روزگار ملنا شروع ہو گا اور ملک کی معیشت اوپر جائے گی، وزیر اعظم نے گورنر اسٹیٹ بینک اور صدر نیشنل بینک آف پاکستان پر سہولتیں فراہم کرنے کے لیے پوری کوشش کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیا ہاؤسنگ منصوبہ ملک کے مستقبل کے لیے اہم ہے۔نیا ہاؤسنگ منصوبے پر ہونے والی ٹیلی تھون سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں پہلی دفعہ ان لوگوں کو موقع دیا جا رہا ہے جو تنخواہ دار طبقہ ہے اور ان کے پاس گھر خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کو موقع دیا جارہا ہے کہ ان کا بھی اپنا گھر ہو، اس کے لیے جو کرایہ وہ گھروں کی مد میں دیتے ہیں وہی قسطیں بن جائیں اور قسطوں کی وجہ سے ان کا گھر بن جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ امیر ملکوں، یورپ اورامریکا میں ہمیشہ لوگ بینکوں سے قرضہ لے کر گھر خریدتے ہیں اور قسطیں ادا کرتے ہیں،پاکستان میں اس کا کوئی رواج نہیں ہے اور پہلی مرتبہ کوشش کی گئی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ مجھے پورا احساس ہے کہ لوگوں کو بڑی مشکلات پیش آرہی ہیں کیونکہ پہلی دفعہ ہے اس لیے مشکلات تو آنی ہی تھیں۔انہوں نے کہا کہ خاص طور پر گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر اورنیشنل بینک کے صدر عثمانی کو تاکید کرتا ہوں کہ عثمانی کو نیشنل بینک کی تمام شاخوں اور رضاباقر کو تمام بینکوں کے سربراہان کو بتانا پڑے گا کہ یہ ہمارے لیے انتہائی ضروری ہے کہ جو لوگ اپنا گھر بنانے کے لیے بینکوں سےقرضہ لینا چاہتے ہیں ان کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ پوری کوشش کرنی چاہیے کہ ان کے لیے پوری سہولتیں پیدا کی جائیں کیونکہ یہ تصور نہیں ہے اس لیے بینک کے عملے کی بھی پریکٹس نہیں ہے۔نیا ہاؤسنگ منصوبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں سن رہا تھا کہ لوگوں کو بڑی مشکلات آرہی ہیں تو اس پر زور لگانا پڑے گا، یہ اس لیے اہم ہے کہ لوگوں کو پہلی دفعہ موقع مل رہا ہے اپنا گھر بنانے کے لیے جن کے پاس پیسہ نہیں تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ سب سے زیادہ اہمچیز یہ ہے کہ ہمارے ملک میں لوگوں نے اپنے گھر بنانے شروع کیے اور گھربنانے کے لیے پیسے ملنا شروع ہوگئے تو تعمیراتی شعبے کے ساتھ 30 دیگر صنعتیں جڑی ہوئی ہیں، اس کا مطلب ہے کہ سارے ملک کے اندر ایک انقلاب آئے گا۔انہوں نے کہا کہ اس سے ملک کی دولت میں اضافہ شروع ہوگا، لوگوں کو روزگار ملنا شروع ہوگا، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع ملیں گے اور تعمیرات میں ترقی ہوسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صرف یہی نہیں ہے کہ لوگوں کو چھت ملے گی بلکہ ملک کی معیشت کواوپر اٹھا دے گی، ساری دنیا کے اندر تعمیراتی صنعت پوری معیشت کو اٹھاتی ہے، جس سے دولت میں اضافہ ہوتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ کیونکہ ہمارے ملک پر قرضے چڑھے ہوئے ہیں تو ہمیں دولت میں اضافہ چاہیے، جب ہماری دولت میں اضافہ ہوگا تو ملکی قرضے واپس کرنے کے لیے پیسے ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ ہر طرح سے ملک کے مستقبل کے لیے بہت اہم ہے، اس کے لیے ہم ایک سال سے کوشش کر رہے ہیں تاکہ رکاوٹیں دور کی جائیں۔وزیراعظم نے گورنر اسٹیٹ بینکاور صدر نیشنل بینک پر ایک مرتبہ پھر زور دیا کہ وہ سہولت پیدا کریں تاکہ ملکی کاروبار میں بھی بہتری آئے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد ہماری ذمہ داری ہیں اورہم کوشش کریں گے کہ ان کو ترجیح دی جائے کیونکہ ان کے پاس کسی وجہ سے صلاحیت نہیں ہے تو ان کی بھی پوری مدد کی جائے۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے جولائی 2019 میں ‘نیا پاکستان ہا?سنگ منصوبے’ کے لیے آن لائن رجسٹریشن کا آغاز کر دیا تھا۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں