25

تین مارشل لاز اور چندخاندانوں نے قوم کے 73 سال ضائع کردئیے، پی ڈی ایم کا ساتھ کیوں نہ دیا ؟ سراج الحق نے عوام کو اندھیری رات ختم ہونے کی نوید سنا دی گئی

راولپنڈی (این این آئی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہاہے کہ تین مارشل لاز اور چندخاندانوں نے قوم کے 73 سال ضائع کردئیے، بے ضمیر اور وطن فروش طبقہ نے اپنے مفادات کی خاطر قائد کے پاکستان کو زبان ، نسل اور مسالک کی بنیاد پر تقسیم کیا ہواہے،پی ٹی آئی ، ن لیگ اور پیپلز پارٹی ایک تکون اور اپنی اپنی باریوں کے منتظر ہیں، عوام کو نوید سناتاہوں اندھیری رات ختم ہونے والی ہے،اب ملک میں خاندانوں کی سیاست نہیں چلے گی۔ حکومت نے رمضان سے قبل چینی ، گھی مزید مہنگے کردئیے، جو بجلی استعمال کرتاہے

اس پر مہینہ کے آخر میںآسمانی بجلی گرتی ہے۔ بھارت سے پیار کی پینگیں بڑھانے کی کوششیں کرنے والوں کو واضح کردینا چاہتے ہیں کہ جب تک مقبوضہ کشمیر میں ایک بھارتی فوجی بھی موجود ہے ، نئی دہلی سے دوستی نہیں ہوسکتی۔ ظلم و جبر ، کرپشن کے نظام کو جماعت اسلامی تبدیل کر سکتی ہے، ہم وہی نظام لانا چاہتے ہیں جو اللہ نے انسانیت کو دیاہے، جماعت اسلامی عدالتوں میں قرآن ، تعلیمی اداروں میںیکساں نظام تعلیم لاناچاہتی ہے۔ عوام نے ہمیں موقع دیا تو غریب کا مفت علاج ہوگا،نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے تاریخی مقام لیاقت باغ میں عوام کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ دیگر مقررین اور اہم شرکاء میں سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم ، نائب امیر میاں محمد اسلم ، امیر جماعت شمالی پنجاب ڈاکٹرطارق سلیم ، امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر خالد محمود، ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان محمد اصغر، سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی قیصرشریف ، صدرجے آئی یوتھ زبیر گوندل ، ضلعی امیر سید عارف شیرازی شامل تھے۔جلسہ میں خواتین کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ شرکائ نے جماعت کے پرچم اوربینرز اٹھا رکھے تھے جن پر اسلامی انقلاب کےحق میں نعرے درج تھے۔امیرجماعت نے شرکاء سے عہد لیا کہ وہ ملک کو خوشحال بنانے اور اس میں قرآن و سنت کے نظام کے نفاذ کے لیے اپنی صلاحیتوں کے مطابق بھر پور سعی کریں گے۔ سراج الحق نے کہاکہ بیسویں صدی کا عظیم واقعہ پاکستان کا حصول تھا مگرہائی جیکرز نے کچھ عرصہ بعد ہی ایوانوں اور اداروں پر قبضہ کرلیا۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے انگریزوں کی تابعداری کی اورآج بھی انہی کی نسلیںپارٹیاں بدل بدل کر ملک پر حکمرانی کر رہی ہیں۔ اب طلوع سحر ہونے کو ہے۔انہوںنے کہاکہ میڈیا کا شکریہ کہ اس نے تمام کے چہرے بے نقاب کردیے۔ عوام اپنے حقوق پرڈاکہ ڈالنے والوں کو خوب پہچان چکے ہیں۔انہوںنے پی ٹی آئی حکومت کو ملکی تاریخ کی نااہل حکومت قرار دیتے ہوئے کہاکہ موجودہ حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مکمل ناکام ہو گئی ہے۔گزشتہ ڈھائی سال میں ادویات کی قیمتوں میںتین سو فیصد ، اشیائے خوردو نوش ، بجلی ، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں 30سے 100 فیصد اضافہ ہوا۔ وزیراعظم کو ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کارخانے بنانے کا مشورہ دیا تھا مگر وہ لنگر خانے بنانے میں مصروف ہو گئے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ان کا بس چلے تو وزیراعظم ہائوس کو مسافر خانہ اور ایوان صدر کو لنگر خانہ بنادے تاکہ عیاشیاں کرنے والےحکمرانوں کو نصیحت ملے۔ انہوںنے کہاکہ پارلیمنٹ کے ایک سیشن پر کروڑوں خرچ ہو جاتے ہیں مگر وہاں عوام کو سننے کو گالیاں ملتی ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم کی جانب سے بنگلہ دیش کو پاکستان سے الگ ہونے کے پچاس سال مکمل ہونے پر مبارکباد کا پیغام دینے پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ڈھاکہ میں مودی اور حسینہ واجد جشن منارہے ہیں اور ہمارے وزیراعظم انہیں مبارکبادیں دے رہے ہیں۔ انہو ں نے خبردار کیا کہ حکمرانوں کی کشمیر کو بھول کر بھارت سے دوستی کرنے کی خواہش کوکبھی پورا نہیں ہونے دیں گے۔ سراج الحق نے جماعت اسلامی راولپنڈی کو جلسے کے شاندار انتظامات کرنے اور عوام کو بڑی تعداد میں شرکت کرنے پرمبارکباد دی۔ انہوں نے کہاکہ لیاقت باغ سے ہی ملک کی بڑی سیاسی تحریکوں کاآغاز ہوا۔ اسی تاریخی مقام پر ہم عہد کرتے ہیں کہ ملک کو اسلام کا گہوارہ بنائیں گے اور دولت ، تعصب ، ظلم ، تکبر کے سومناتوں کو پاش پاش کریں گے۔ امیر العظیم نے اپنے خطاب میں کہاکہ جماعت اسلامی کشمیر کا مقدمہ گلگت بلتستان میں دفن نہیں ہونے دے گی۔وزیراعظم مافیاز کی بات کرتے ہیں مگر ان کے ارد گرد مافیاز موجود ہیں۔ انہو ںنے کہاکہ ملک کو پٹڑی پر ڈالنا ہے تو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی غلامی بند کرنا ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے اندر جمہوریت لانا ہوگی۔ میاں محمد اسلم اور ڈاکٹر طارق سلیم نے جماعت اسلامی کو بہترین آپشن قراردیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ ملک میں اسلامی نظام کے قیام اور اسے عظیم مملکت بنانے کے لیے جماعت اسلامی کی پرامن جمہوری تحریک کا ساتھ دیں۔ڈاکٹر خالد نے کہاکہ بھارت کے تمام تر ظلم و استبداد کے باوجود کشمیر کی آزادی کی تحریک جاری ہے اور وہ وقت دور نہیں جب کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا۔ انہوں نے کہاکہ اگرچہ حکمرانوں نے مودی حکومت کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں مگر کشمیر اور پاکستان عوام کے حوصلے بلند ہیں۔ کشمیر کا سودا کسی صورت منظور نہیں۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں