7

20ڈالر میں کرونا ویکسین خرید کر عوام کو 125ڈالر میں فروخت کرنے کا منصوبہ نجی لیب کے گلے پڑ گیا، نیب کا سخت ایکشن، زبردست قدم اٹھا لیا

لاہور( آن لائن ) قومی احتساب بیورو (نیب) نے روس سے کورونا ویکسین کی خریداری اور 100 ڈالر سے زائد (فی کس) اس کی قیمت وصول کرنے کے منصوبے کے بارے میں نجی لیبارٹری سے ریکارڈ طلب کر لیا ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق نیب لاہور نے اس شکایت کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے کہ نجی لیبارٹریروس سے خریداری کے بعد کووڈ 19 ویکسین کے لیے ہر شخص سے 100 ڈالر سے زیادہ منافع وصول کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ سرکاری ذرائع نے میڈیا کو بتایا کہ ‘نیب روس سے 20 ڈالر (دو خوراکوں) پر کورونا ویکسین کی خریداری

اور اس کے فی شخص 125 ڈالر وصول کرنے کے مجوزہ منصوبے کے بارے میں لیبارٹری سے ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘روسی سوویرین ویلتھ فنڈ جس نے سپٹنک کووڈ ویکسین تیار کرنے میں سرمایہ کاری کی ہے، نے کہا ہے کہ وہ اسے فی خوراک 10 ڈالر (دو خوراکوں کے لیے 20 ڈالر) میں فروخت کریں گے جبکہ لیبارٹری (یہاں) دو خوراکوں پر 20 ہزار روپے (125 ڈالر) میں فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور حکومت کو ضرورت سے زیادہ منافع کمانے یا عوام کو پہنچنے والے نقصان کی جانچ نیب آرڈیننس کے سیکشن 33 سی اور 27 کے مطابق کی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بیورو یہ دیکھے گا کہ کس کو کتنا فائدہ ملے گا اور کتنے لاکھ خوراکیں خریدی جائیں گی اور فروخت ہوں گی۔حکومت نے نجی کمپنیوں کو کورونا وائرس کی ویکسینز درآمد کرنے کی اجازت دی ہے اور مبینہ طورپر اس طرح کی درآمد کو پرائز کیپس سے مستثنیٰ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ پاکستان ابھی تک کسی بھی کمپنی سے ویکسین کی بڑی مقدار محفوظ نہیں کرسکا ہے اور رواں ماہ اس نے چین کی جانب سے عطیہ کردہ سائنوفارم ویکسین کی 5 لاکھ خوراکوں کے ساتھ ایک ویکسینیشن مہم کا آغاز کیا تھا۔ان ویکسین کو پہلے ترجیحی بنیادوں پر فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو دیا جارہا ہے۔نجی لیبارٹری کے ایک عہدیدار سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ اس معاملے سے آگاہ نہیں ہیں۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں