5

42کمر ے، 4تہہ خانے ، پرکشش چھتیں ، محرابیں  گجرات میں قائم رام پیاری محل لازوال محبت کی نشانی

سرگودھا(این این آئی)رام  پیاری محل گجرات لازوال محبت کی ایک نشانی ہے۔جسے اہلیان گجرات ایسے خوبصورت میوزیم کے خواہاں ہیں۔ذرائع کے مطابق پنجاب کے شہر گجرات شہر کے اندرون سرکلر روڈ کبھی رام پیاری روڈ تھا جس پر واقع ایک تاریخی محل رام پیاری ہے۔جو گجرات کا  تاریخی اور ثقافتی ورثہ سموئے ہوئے ہے۔معلوم ہوا کہ گجرات کے قدیم قصبہ ڈنگہ سے اس وقت کےمالدار تاجر راجہ سندر داس نے یہ محل اپنی تیسری بیوی رام پیاری کی محبت میں تعمیر کروایا جو 1917 میں مکمل ہوا۔جبکہ راجہ سندر داس 1880 میں پیدا ہوئے اور 1920 میں وفات پا گئے۔

جنہوںنے رام پیاری سے شادی  12 سال کی عمر میں کی جب ان کی اپنی عمر 36 سال تھی۔جن کے آبائی قصبہ ڈنگہ میں آج بھی سندر محل اور محلہ سندر داس لوگوں کو ان کی یاد دلاتا ہے۔بتایا گیا ہے کہ راجہ سندر داس نے بیوی سے محبت میں صرف محل ہی نہیں بلکہ گجرات سے ڈنگہ روڈ کا نام رام پیاری روڈرکھوایا جسے آج ڈنگہ گجرات روڈ کہا جاتا ہے۔گجرات کے رام پیاری محل کو یونانی اور رومن طرز پر تعمیر کیا گیا جس کے مرکزی دروازے کے اندر شکوہ عمارت دس کنال کے رقبے پر پھیلے اس دو منزلہ محل نما بلڈنگ میں چھوٹے بڑے 42 کمرے اور چار تہہ خانے ہیں۔ اس محل عمارت کے اندر فرش پر ہندوستانی اور دیواروں پر فرانسیسی ٹائلیں راجہ سندر داس کے خاندان کی امارت کا پتہ دیتی اور محل کو دیدہ زیب بنائے ہوئے ہیں۔سناہے کہ اس زمانہ میں محل کے روشن دانوں سے جب فانوس کی روشنیاں ٹکراتی تھیں تو دیکھنے والوں کو حیران کر دیتی تھیں۔ جہاں لکڑی کا کام اپنی مثال آپ ہے۔  اس محل کے دروازے، چھتیں، ستون اور محرابیں اتنی ہی پر کشش ہیں جتنا لاہور اور دہلی کا مغل آرٹ ہے۔مرکزی ڈیوڑھی کے ستونوں کے اوپری حصہ پر ہندو مذہب کی مناسبت سے دیویوں کی مورتیاں نصب کی گئی تھیں۔کہا جاتا ہے کہ راجہ کیدار ناتھ نے رام پیاری کے خاندان سے رشتہ داری رکھتے ہوئے محل کے قریب حویلی تعمیر کی جسے کیدار ناتھ حویلی کے نام سے دیا گیا۔راجہ سندر داس اپنی شادی کے چار سال بعد وفات پا گئے تاہم رام پیاری اور ان کا خاندان تقسیم ہندوستان تک اس محل میں قیام پذیر رہا اور پھر انڈیا ہجرت کر گیا۔مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ رام پیاری کا خاندان اور وہ خود محل کو دیکھنے آئیں۔جن کا انتقال 1976 میں انڈیا ہی میں ہوا۔مقامی کالج کی طالبات کے لیے رام پیاری محل کو ہاسٹل میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس غرض سے اس میں کچھ اضافی تعمیرات کی گئیں اور بوقت ضرورت چھتوں وغیرہ میں ترمیم ہوئی۔سن 2004 میں حکومت نے اس محل کے ثقافتی ورثہ کو محفوظ کرنے کے لیے اس کو عجائب گھر بنانے کا فیصلہ کیا۔لیکن یہاں سے ہاسٹل ختم کروانے میں 14 سال لگ گئے اور یہ کام 2018 میں مکمل ہوا۔گذشتہ کچھ سالوں سے محل کی مرمت و بحالی کا کام جاری ہے تاہم ابھی بھی عمارت کا اندرونی حصہ اور تہہ خانے خستہ حالی نظر آ رہے ہیں۔موجودہ عجائب محل کی عمارت کے دو بڑے کمروں میں چند  نوادرات رکھے گئے اور اہلیان گجرات آج بھی اس محل کو ایک مکمل تاریخی میوزیم بنائے جانے کے خواہاں ہیںـ



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں