9

’’ڈسکہ الیکشن ،2افراد کے نام میرے پاس آ چکے‘‘ این اے 75 سے متعلق سچ بتا دیں، ورنہ مجھے بتانا پڑے گا، مریم نواز سوال اٹھا دیا

لاہور (این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہبراڈ شیٹ کو لندن فلیٹس کے بارے میں سوال اٹھانے اور پھر عدالت سے بھاگ جانے پر نواز شریف کے وکلا کو 45 لاکھ روپے ادا کرنے پڑے جو کہ الزام تراش اورجھوٹوں کے ٹولے کے منہ پر ایک اور زناٹے دار طمانچہ ہے، عوام کا پیسا اپنی ذاتی انا کی جنگ میں جھونکنے والوں کا احتساب باقی ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ن)کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے ٹویٹس میں کہا کہ نواز شریف کے دشمنوں کو پھر ذلت آمیزشکست ہوئی، کرپشن پکڑنے گئے

تھے لیکن 45 لاکھ دے کر جان چھڑوائی، نواز شریف نے کہا تھا میں اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑتا ہوں اور اللہ اپنے بندوں کی حفاظت خود کرتا ہے، عمران خان اور ان کے حواریوں کو بھی جرمانے ادا کرنے ہوں گے جو خزانے سے نہیں ذاتی جیبوں سے نکلوائے جائیں گے۔انہوںنے کہاکہ براڈشیٹ تو اپنے جھوٹے الزامات پر عدالت میں عزت افزائی کروا چکی ہے مگر ابھی ان لوگوں کا احتساب باقی ہے جو پاکستانی عوام کا پیسا اپنی ذاتی انا کی جنگ میں جھونکتے رہے، جو چھپ چھپ کہ براڈشیٹ والوں کو ملتے تھے اور اپنا حصہ مانگتے تھے تاہم اب سب حقائق عوام کے سامنے آئیں گے۔مریم نواز نے کہا کہ براڈ شیٹ کو لندن فلیٹس کے بارے میں سوال اٹھانے اور پھر عدالت سے بھاگ جانے پر نواز شریف کے وکلا کو 45 لاکھ روپے ادا کرنے پڑے، جھوٹ اور فریب کے کھیل میں اسی طرح لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ این اے 75 ڈسکہ الیکشن سے متعلق سچ بتا دیں، ورنہ مجھے بتانا پڑے گا۔دو افراد کے نام میرے پاس آ چکے ہیں۔ یہ دھاندلی نہیں، منظم آپریشن تھا جو اعلی سطح سے مینج ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا عملہ اغوا کرکے پوری رات ایک مقام پر رکھا گیا۔ تحریک انصاف کے سرکردہ اراکین کی موجودگی میں نتائج تبدیل کرائے گئے۔مریم نواز نے سوال اٹھایا کہ 14 گھنٹے بعد ان کا اچانک باجماعت وارد ہو جانا نچلے لیول کا کام ہے؟



کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں