5

ہڈیوں میں فریکچر، حلیم عادل شیخ کو این آئی سی وی ڈی سے جناح کے آرتھوپیڈک وارڈ میں منتقل کردیا گیا

کراچی(آن لائن)قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ کو این آئی سی وی ڈی سے جناح کے آرٹھوپیڈک وارڈ میں منتقل کر دیا گیاحلیم عادل شیخ کے جیل میں حملے کے دوران ہڈیوں میں فریکچر آئے تھے۔ جناح اسپتال آرٹھوپیڈک ہیڈ اے آر جمالی نے آرٹھوپیڈک وارڈ منتقل کرنے کے لئے لیٹر جاری کیا تھا۔ آین آئی سی وی ڈی سے جناح اسپتال منتقلکرنے کے دوران حلیم عادل شیخ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا عمران خان کا سپاہی ہوں آخری سانس تک سندھ کے کرپٹ حکمرانوں کو بے نقاب کرتا رہوں گا۔ جیل میں گینگ وار سے حملہ

کروایا گیا پولیس کے ایک سپاہی کے ساتھ بھیجا گیا۔ جیل حکام نے ایک طرف کی وڈیو جاری کی ہے جہاں تشدد ہوا وہ وڈیو بھی جاری کی جائے۔جیل میں مجھے بند وارڈ کرکے دائش کے مجرموں کے ساتھ رکھا گیا۔ جس وارڈ میں پھانسی کے مجرموں کو رکھا جاتا ہے وہاں رکھا گیا۔مجھے دہشتگرد کہا جارہا ہے اگر سندھ حقوق کی بات کرنا دہشتگردی ہے تو میں ہوں۔ اگر کرپٹ لوگوں کو بے نقاب کرنا دہشتگردی ہے تو میں ہوں۔ میرے حلقے کے کارکنوں کو اٹھایا گیا گھروں پر چھاپے مارے گئے ہیں۔ سمیر میر شیخ سمیت دیگر ساتھیوں کو جیل میں الگ الگ رکھا گیا۔ قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ پر جیل میں تشدد کرنے پر ان کی بیٹی عائشہ حلیم شیخ نے اپنے وڈیو بیان میں کہا آج میرے والد کا یوم پئدائش کا دن ہے ہر سال کیک کاٹتے تھے۔ گزشتہ شب 12بجے سالگرہ کے وقت اسپتال ملنے گئے۔ میرے والد پر جیل میں موجود پی پی کے لوگوں نے حملہ کرکے قتل کرنے کی کوشش کی۔ جیل میں کچھ پولیس کے لوگوں نے والد کو ان غنڈوں سے بچالیا تھا۔ پیپلزپارٹی میرے والد کو جیل میں قتل کروانا چاہتی تھی۔ میرے والد کے جسم کےمختلف اعضاء پر زخم ہیں وہ چل نہیں سکتے۔ کل میرے والد کو سندھ حکومت نے قتل کروانے کی سازش کی تھی۔حلیم عادل شیخ سندھ کی عوام کی آواز بنتے ہیں یہ ان کا قصور ہے۔ حلیم عادل شیخ سندھ کی ہر جگہ جاکر سندھ حکومت کو بے نقاب کرتے ہیں یہ ان کا قصور ہے۔ میرے والد کو کچھ بھی ہوا تو اس کی زمہ دار پیپلزپارٹی اورسندھ حکومت ہوگی۔ قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ پر جیل میں تشدد کرنے پر ان کے بیٹے احسن عادل شیخ نے اپنے وڈیو بیان میں کہا میری اسپتال میں والد حلیم عادل شیخ سے ملاقات ہوئی ہے۔ حلیم عادل شیخ نے بتایا ہے کہ ان کو چالیس سے پچاس لوگوں نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ اپنے ساتھیوں سے الگ کرکے حلیم عادل شیخ جیل میں منتقل کیاگیا۔ پ پ کے غنڈوں نے جئے بھٹو کے نعرے لگا کر جیل میں حملہ کیا پیپلزپارٹی انتظامیہ سے ملکر ایک سازش کے تحت حملہ کروایا۔ پولیس کے کچھ سپاہیوں نے حلیم عادل شیخ کو لوگوں سے بچا کر محفوظ مقام پر پہنچاہا تھا۔ حلیم عادل شیخ این آئی سی وی ڈی میں زیر علاج ہیں ان کے جسم کے مختلف حصوں پر زخم کے واضح نشاناتموجوس ہیں۔ پہلے بھی ایس آئی یو سینٹر میں قتل کرنے کی سازش کی گئی تھی۔ مراد علی شاہ یہ نہ بھولیں انہیں بھی اسی جیل میں آنا ہوگا۔ بہت جلد پیپلزپارٹی کو پتہ چل جائے گا کس کہ کس میں ہاتھ ڈالا ہے۔ مراد علی شاہ کے ان ہتھکنڈوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ حلیم عادل شیخ سندھ کی آواز ہیں جسے کوئی بند نہیں کر سکتا۔جیل حکام کیجانب قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ سی سی ٹی وی وڈیو جاری کرنے پر ترجمان محمد علی بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا جیل حکام کی جانب سے جاری کی جانے والی سی سی ٹی وی فوٹیج حلیم عادل شیخ کے دعوے کا ثبوت ہے۔ اس وڈیو میں 18 سیکنڈ کے لئے جو حملہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا ہے وہ وڈیو نہیں آرہی۔ اگرجیل حکام میں تھوڑی سی بھی سچائی ہوتی تو وہ وڈیو بھی شامل کرتے۔ جیل حکام دوسرے کمئرے کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کیوں نہیں کی؟ اس وڈیو میں واضح ہے کہ حلیم عادل شیخ کو ایک پولیس والا اندر لیکر نکل رہا ہے۔ وڈیو میں جب تشدد کیا جاتا ہے شور شرابا ہوتا ہے تو دیگر پولیس والے بھی بھاگ کر پہنچ رہے ہیں۔جس وقتکرمنل اور گینگ وار کے لوگوں نے حملہ کیا اس کمرے کی وڈیو بھی جاری کرنی چاہیے۔ اگر حملہ نہیں ہورہا تھا تو پولیس والے بھاگ کر کیوں نکل رہے ہیں۔؟وڈیو میں حملے کے بعد دوبارہ حلیم عادل شیخ کو بھگا کر واپس لایا جارہا ہے۔ اس وڈیو میں ایک رخ دکھایا گیا ہے آگے جب حملہ کیا گیا وہ وڈیو بھی شیئر کی جائیں۔

موضوعات:

شکریہ سے شکر تک

کیپٹن چارلی پلمپ امریکی پائلٹ تھا‘ یہ 1960ء کی دہائی میں ویتنام میں پوسٹ تھا‘ اس نے 74 کام یاب فضائی آپریشن کیے اور امریکی فضائیہ کا ’’آئی کان‘‘ بن گیا‘ چارلی نے 74ویں آپریشن کے بعد چھٹی اپلائی کر دی‘ چھٹی منظور ہو گئی لیکن روانگی سے پانچ دن قبل اس کے سینئر نے اسے آخری مشن پر روانہ ….مزید پڑھئے‎

کیپٹن چارلی پلمپ امریکی پائلٹ تھا‘ یہ 1960ء کی دہائی میں ویتنام میں پوسٹ تھا‘ اس نے 74 کام یاب فضائی آپریشن کیے اور امریکی فضائیہ کا ’’آئی کان‘‘ بن گیا‘ چارلی نے 74ویں آپریشن کے بعد چھٹی اپلائی کر دی‘ چھٹی منظور ہو گئی لیکن روانگی سے پانچ دن قبل اس کے سینئر نے اسے آخری مشن پر روانہ ….مزید پڑھئے‎



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں