9

سفید آٹا صحت کیلئے کیسا ہے؟ طبی ماہرین کے چونکا دینے والے انکشافات

کراچی(این این آئی)طبی ماہرین نے سفید روٹی اور لچھے دار پراٹھوں کے شوق میں کھایا جانے والے سفید آٹے یعنی میدہ کو انسانی صحت کے لیے نہایت مضر صحت قرار دیا ہے۔ماہرین کی جانب سے سفید آٹے یعنی ریفائن آٹے کو انسانی معدے کے لیے سفید گلو قرار دیا گیا ہے، سفید آٹا کئی طرح کے مراحل سے گزر کر میدے کی شکل اختیار کرتا ہے، ان مراحلمیں گندم میں سے انسانی صحت کے لیے بہترین اجزا جیسے کہ سوجی اور فائبر نکال لیا جاتا ہے جس کے بعد آٹا میدے کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس کے استعمال

سے انسانی صحت پر انتہائی مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ماہرین کے مطابق سفید آٹا روزانہ کی بنیاد پر روٹی، پراٹھا، ڈبل روٹی، برگر، پیزا، پاستا، میکرونی، ڈونٹس اور موموز کی شکل میں کھایا جاتا ہے جس کے استعمال کے بعد کولیسٹرول لیول کا بڑھ جانا، قبض، جگر کی کارکردگی کا متاثر ہونا، موٹاپا، بد ہضمی اور نظام ہاضمہ کی کاکردگی متاثر ہونے جیسی شکایات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔طبی و غذائی ماہرین کے مطابق مکمل آٹا جسے عام زبان میں چکی کا آٹا بھی کہا جاتا ہے اس کا استعمال کرنا چاہیے، اس میں بڑی مقدار میں ڈائیٹری فائبر پایا جاتا ہے، چکی کے آٹے کے استعمال کے نیتجے میں نظام ہاضمہ بہتر ہوتا ہے جس کے سبب مجموعی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ماہرین کے مطابق چکی کے آٹے کے استعمال کے نتیجے میں غذا کے ساتھ لیے گئےدوسرے منرلز اور وٹامنز بھی بہتر طریقے سے ہضم ہو پاتے ہیں۔طبی ماہرین نے کہاکہ سفید آٹا ایسڈک اِن نیچر یعنی تیزابی خصوصیات کا حامل ہوتا ہے جس کے استعمال سے تیزابیت کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، اس کے دیر سے ہضم ہونے کے نتیجے میں معدے اور آنتوں کی صحت پر بھی منفیاثرات مرتب ہوتے ہیں۔ماہرین کے مطابق زیادہ تیزابیت والی غذائیں جیسے کے سیفد آٹا اور فاسٹ فوڈ کھانے کے نتیجے میں ہڈیوں سے کیلشیم کا اخراج شروع ہو جاتا ہے جس کے سبب بڑھتی عمر میں آرتھرائٹس اور جوڑوں کا درد عام ہو جاتا ہے۔سفید آٹے میں فائبر کی غیر موجودگی کےسبب قبض، سر درد اور ڈپریشن جیسی بیماریاں عام ہو جاتی ہیں۔واضح رہے کہ سفید، ریفائن آٹے کو پراسیسڈ غذاں میں شامل کیا جاتا ہے جس میں ہر طرح کی فائدہ مند اجزا نکال لیے جاتے ہیں۔ریفائن آٹے کو سفید رنگ دینے کے لیے بلیچنگ اجزا کا استعمال بھی کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں سفید آٹے کا استعمال انسانی صحت کے لیے مزید خطرناک ثابت ہوتا ہے۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں