4

سابقہ دورمیں روپے کو 40فیصد تک اوور ویلیو رکھاگیا،اس وجہ سے قرضوں میں 5سے6ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا،حیران کن انکشاف

اسلام آباد/لاہور( این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے سینئر مرکزی رہنماو سابق وفاقی وزیر ہمایوں اخترخان نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے بات چیت نئے پروگرام کیلئے نہیں بلکہ کورونا وباء کے دوران معطل ہونے والے ایکسٹنڈ ڈ فنڈ فیسیلٹی پروگرام کاتسلسل ہے،2016 میں روپے کو مصنوعی طریقے سے25اور 2018 میں 40فیصد رکھا گیااو رجب روپیہ اپنی اصل جگہ پر آیا تو قرضوں میں 5سے6ہزار ارب روپے کا اضافہ اسی کا نتیجہ ہے ۔اپنے دفتر میں صنعتکاروںکے نمائندہ وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے ہمایوںاختر خان نے کہا کہ حزب اختلاف یہ تو کہتی ہے کہ موجودہ

حکومت نے قرضوںمیں اضافہ کیا ہے لیکن یہ کیوں نہیں بتاتی کہ 30ہزار ارب جن میں سے 95ارب ڈالرغیر ملکی قرضہ ہے اس کی اقساط اور اس کاسود کون اداکررہا ہے ۔جب کوئی بھی ملک آئی ایم ایف سے رجوع کرتاہے تو اس کی سب سے پہلی شرط یہی ہوتی ہے کہ اپنی کرنسی کو اس کی اصل جگہ پر لائیں اور یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان کاروپیہ صحیح جگہ پر آیا توبیٹھے بٹھائے قرضوں میں5سے6ہزار ارب کااضافہ ہو گیا اور یہ سابقہ حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وباء کے باوجودہماری معیشت درست سمت میں گامزن ہے ،لارج اسکیل مینو فیکچرننگ اور ٹیکسز میں گروتھ ہوئی ہے ، جنوری 2021ء میںمہنگائی کی شرح جولائی 2018ء کی سطح پر رہی ۔ہم معیشت کو ٹریک پر لا رہے ہیں اور انشااللہ جلد عروج بھی حاصل ہوگا جس سے پاکستان کونا مساعدحالات کے بھنورسے نکلنے میں مددملے گی ۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں