36

ڈاکٹر ماہا علی کیس میں نیا موڑ ماہا کو منشیات کون سپلائی کرتا تھا ؟ پولیس نے پتہ لگا لیا

کراچی (این این آئی) پولیس نے ڈاکٹر ماہا قتل کیس میں جنید خان اور وقاص رضوی کو مشکوک ملزم جبکہ ڈاکٹر عرفان کو بے گناہ قرار دے دیا اور کہا ڈاکٹر عرفان قریشی کے خلاف ثبوت نہ ملے۔تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر ماہا کیس میں نیا موڑ آگیا ، پولیس نے قتل کیس کی تفتیشمکمل کرلی ہے ، تفتیش میں پولیس نے جنید خان اور وقاص رضوی کو مشکوک ملزم قرار دیا اور کہا جنید خان قتل بالسبب کا مرکزی ملزم اور ڈاکٹر عرفان بے گناہ ہے ، ڈاکٹر عرفان قریشی کے خلاف ثبوت نہ ملے۔جامشورو لیب سے ڈی این اے

کی رپورٹ بھی پولیس کو مل گئی ہے ، لیبارٹری رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عرفان اور تابش یاسین کے ڈی این اے کی میچنگ نہیں ہوئی، ڈاکٹر عرفان اور تابش کے ڈاکٹر ماہا سے زیادتی کے شواہد نہیں ملے۔تفتیشی پولیس ساوتھ کا کہنا ہے کہ متوفیہ وقوعے کے روز تین گھنٹے 37 منٹ تک ڈاکٹر عرفان کے کلینک پر رہی،عرفان قریشی مریضوں کو دیکھنے کی مصروفیت کی وجہ سے ماہا سے نہ ملے، میسجز کے تبادلے میں ڈاکٹر ماہا نے انتظار کے بعد بھی نہ ملنے کا گلہ کیا جبکہ کلینک میں منشیات کے استعمال یا فحش حرکات کے ثبوت نہیں ملے۔پولیس کے مطابق ڈاکٹر ماہا کوکین اور دیگر نشہ آور چیزیں استعمال کرنے کی عادی تھی، ڈاکٹر ماہا کو نشہ آور اشیا انمول عرف پنکی اور اس کا گروپ سپلائی کرتا تھا۔سعد صدیقی اور تابش نے غیر قانونی طور پرڈاکٹر ماہا کو پستول فراہم کیا،اسی پستول سے ڈاکٹر ماہا نے خود کو گولی مار کر خودکشی کی،پولیس نے مجموعی طور پر 39 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کئے۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں