4

ووٹوں کے تھیلے (ن) لیگ کے ایم پی اے کے پاس پائے گئے،تہلکہ خیز دعویٰ

وزیرآباد(آن لائن) وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی شہباز گل نے کہا ہے کہ ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی نے گیارہ جماعتوں کے خلاف الیکشن لڑکر اپنے ووٹوں میں 50فیصد تک اضافہ کیا ہے۔(ن) لیگ نے میڈیاکواستعمال کیا اور ماحول تبدیل کر کے الیکشن کومشکوک بنایا ۔حلقوں میں (ن) لیگ کی جانب سے پیسےبانٹنے کی شکائت کا الیکشن کمیشن نے نوٹس نہ لیا۔ووٹوں کے تھیلے (ن) لیگ کے ایم پی اے کے پاس پائے گئے۔عوام اورخواتین کو دہشت زدہ کیاگیا۔غیر قانونی حرکات کونظر اندازنہیں کرینگے اور اپیل میں جائینگے۔چوہدری یوسف پی ٹی آئی کے ایم پی اے کے طور پر

کام کرینگے۔حلقہ میں حامی اور مخالف ووٹران کویکساں عزت دینگے۔ڈسکہ میں دو افراد کے قتل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونا چاہئیں۔ وہ یہاں ضمنی الیکشن کے رنرز اپ امیدوار چوہدری محمد یوسف کی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ شہباز گل نے کہا کہ ضلع گوجرانوالا (ن) لیگ کے مضبوط حلقوں میں شامل ہے اس کے باوجود چوہدری یوسف نے ایک مافیا کامقابلہ کیااور ووٹوں میں ریکارڈاضافہ کیا۔پی ٹی آئی نے شہر سے امیدوار اتار کر شہریوں کامطالبہ پوراکیا۔ چوہدری یوسف ایک صاف ستھرا آدمی ہے جس نے (ن) کی برتری کو کم کر کے 5419 تک لے آئے جو 2018میں 33ہزار سے زائد تھی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پی ڈی ایم کی 11جماعتوں کے خلاف الیکشن لڑ کر اپنے ووٹ بینگ میں 50فیصد تک اضافہ کیا ہے۔چوہدری محمدیوسف پی ٹی آئی کے ایم پی کے طور پرکام کرینگے ۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو بتایا گیا تھا کہ (ن) لیگ پیسے بانٹ رہی ہے لیکن انہوں نے کوئی ایکشن نہ لیا اُلٹا پی ٹی آئی کوقدم قدم پر روکا گیا۔عوام اور خواتین کو دہشت زدہ کیا گیا ۔(ن) لیگ والے ووٹوں کے تھیلے لے گئے اورچوہدری یوسف کے ووٹ پھاڑے گئے جس کے ثبوت الیکشن کمیشن کو دیئے جائینگے اور بتایا جائے گا کہ کس کے ایم پی اے کے پاس ووٹوں کے تھیلے تھے۔انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ کو خصوصی طور پر حلقہ پی پی 51اور این اے75میں لایا گیا جو ایسے منفی معاملات میں بدنام ہے ۔ رانا ثناء اللہ الیکشن کا سپیشلسٹ نہیں ہے۔اس کا اپنا الیکشن تنازعات سے بھرپور ہو تا ہے۔انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ صرف اس الیکشن کو شفاف مانتی ہے جس میںوہ جیت جائے۔ انہوں نے کہا کہ بعض نام نہاد صحافیوں اور مخصوص چینلوں کے ذریعے پہلے ایک ماحول پیداکیا گیاپھرپرانے طریقے پر چلتے ہوئے الیکشن کو سبو تاژ کیا جو خلاف معمول ہے جس کاالیکشن کمیشن آف پاکستان کو نوٹِس لینا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کی فلاح کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کی وجہ سے 2023کے الیکشن میں دیہی آبادی عمران خان کے ساتھ ہوگی جس کا موجودہ ضمنی الیکشن میں بھی مظاہرہ ہو اہے ۔انہوں نے کہا کہڈسکہ میں 2018کے الیکشن میں پی ٹی آئی 50ہزار ووٹوں سے ہاری تھی وہ اب 3800ووٹوں سے جیت رہے ہیں جس پر اپوزیشن کوتحفظات پیدا ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن الیکشن ریفارم کے لئے تیار نہیں ہو رہی ہے۔ اپوزیشن کو “ای ووٹنگ” سسٹم لانے کی تجویز دی ہے تاکہ موسمی خرابیوں سے جان چھوٹ جائے۔انہوں نےکہا کہ شفاف الیکشن کا فائدہ عمران خان کو ہے۔(ن)لیگ نے میڈیا کے ذریعے مخصوص ماحول پیدا کیا ، ووٹ خریدے ، فائرنگ کی اور الیکشن کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ عوام اپوزیشن پر دبائو ڈالیں تاکہ وہ الیکشن ریفارم کی طرف آئیں۔انہوں نے کہا کہ مخالف اور حامی ووٹران کو یکساں عزت دینگے۔انہوں نےنوجوانوں کو مخاطب کر تے ہوئے کہا کہ عددی جیت نہ ہو تب بھی مکمل کامیابی تک میدان میں ہی رہنا ہوتا ہے ۔نوجوانوں کوبدمعاشوں کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔ووٹوں کے گیپ کو کم کرنا بھی نوجوانوں کی فتح ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ڈسکہ میں قتل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونا ضروری ہے ۔ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ تمام سرجریاں پاکستان میں ہونگی کسی کو باہر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔



کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں