32

نوشہرہ ضمنی انتخابات میں شکست تحریک انصاف کو ہضم نہ ہوئی ،حکومتی ایوانوں میں ہلچل، بڑا قدم اٹھا لیا

پشاور(این این آئی) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے نوشہرہ ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی شکست پرسخت نوٹس لے لیا۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے نوشہرہ ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی شکست پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ضمنی الیکشن کی تفیصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے، جس کی بنیاد پرمستقبل کے لیے لائحہ عمل وضع کیاجائیگا۔صوبائی حکومت کے ترجمان کامران خان بنگش نے ضمنی انتخابات کے حوالے سے موقف جاری کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی محمود خان نے کرم الیکشنز میں بہترین نتائج پر مبارکباد اور عوام کا شکریہ ادا کیا ہے، قبائلی اضلاع میں تیزترترقی و خوشحالی کے ثمرات عوام تک پہنچ

رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوشہرہ ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی ہار پر وزیراعلی نے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے اورمستقبل کا لائحہ عمل اسی بنیاد پر طے کیاجائے گا۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے کرم کی سیٹ جیت کرقبائلی اضلاع میں سٹیٹس کو کا خاتمہ کردیا، کرم کی نشست اِس سے قبل جے یو آئی نے جیتی تھی۔دریں اثنا صوبائی وزیرمحنت وثقافت شوکت یوسفزئی نے ضمنی انتخابات پرردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نوشہرہ میں پی ٹی آئی کوپی ٹی آئی نے ہرایا ہے، نوشہرہ کی سیٹ پرشکست پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں دونوں قومی اسمبلی کی نشستیں جیتنا تحریک انصاف کی بہت بڑیکامیابی ہے، تحریک انصاف کا مقابلہ کسی ایک جماعت سے نہیں گیارہ جماعتوں سے تھا، گیارہ جماعتیں مل کر بھی تحریک انصاف کوکامیابی سے نہیں روک سکیں۔انہوں نے کہا کہ مینڈیٹ چوری کرنے کا نعرہ لگانے والوں کیلئے آج کا دن لمحہ فکریہ ہے ،ڈسکہ میں تمام تر غنڈہ گردیکے باوجود پی ایم ایل این کو شکست ہوئی ،کرم میں جے یو آئی کی سیٹ تحریک انصاف نے جیت لی ہے۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ جے یوآئی کی سیٹ پر شکست کے بعد مولانا فضل الرحمان کو پی ڈی ایم کی سربراہی سے مستعفی ہو جانا چاہیے،دو قومی اسمبلی کی نشستوں پر شکست کے بعد اپوزیشن کے احتجاج کا کوئی جواز نہیں رہتا۔انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں اپوزیشن کے تمام دعووں کی قلعی کھل گئی،اپوزیشن جماعتیں اپنے دوراقتدارمیں عوام کے لیے کچھ کرتیں تو آج ان کو اتنی شرمندگی نہ اٹھانی پڑتی۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں