8

فیصلے آرڈیننس سے کرنے ہیں تو پارلیمنٹ کو تالا لگا دیں، پا کستان کی تاریخ خطرناک موڑ پر آگئی ،صدارتی آرڈیننس کو مسترد کر دیا گیا

اسلام آباد (آن لائن) ایوان بالا کے ہفتہ کو اجلاس میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفرالحق نے سینیٹ الیکشن سے متعلق صدارتی آرڈیننس کے خلاف قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد کا مقصد قانون کے مطابق انتخابات کر انا ہے، حکومت نے سپریم کورٹ سے رابطہ کیا ہے۔سپریم کورٹ نے ابھی رائے نہیں دی ،صدارتی آرڈیننس جاریکردیاگیا ہے اب ہم اس کشمکش میں ہیں ، کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور نہ وقت ہے ۔اس آرڈنینس نے سب کو مشکلات میں ڈال دیا ہے ۔ انہوں نے کہا آئین کے مطابق خفیہ بیلٹنگ سے الیکشن ہونا چاہیئے۔ اس موقع

پر سینیٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ وہ کیا ہے جو سپریم کورٹ میں چیلنج ہوا یہی آرڈینینس تو ہے،کیا سپریم کورٹ میں جو مقدمہ چل رہا ہے اس پر اعتراض نہیں ہو رہا،جو فیصلہ آنا ہے اس پر پہلے سے اندازے لگائے جا رہے ہیں، سینٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوے انہوں نے کہا یہ کوئی اجنبی نہیں ہے جس نے آرڈینس جاری کیا ہے،یہ آرڈیننس دن کی روشنی میں صدر پاکستان نے جاری کیا، انہوں نے کہا آرڈیننس کی ایک تاریخ ہے مگر اس پر اعتراض آتا ہے،۔ انہوں نے کہا آئین کہتا ہے کوئی عدالت آرڈیننس کو چیلنج نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا دور آمریت میں جو آرڈیننس جاری ہوئے ان کو بھی آئین تحفظ دیا گیا۔ انہوں نے کہا آرڈیننس کہ فیکٹریاں نہیں نرسریاں لگی ہوئی ہیں، انہوں نے کہا اگر یہ میثاق جمہوریت اور نظریہ ضرورت کی جنگ نہیں تو آئین پھر سامنے ہے ۔ انہوں نے کہا جسطرح نے صدر نے آئینی تقاضوں کو پورا کیا کابینہ نے بھی کیا،بھٹو شہید کا عدالتی قتل اب بھی عدالت میں زیر التواء ہے، انہوں نے کہا جمہوریت کے اندر وہ سارے زرائع ہیں جو آئین میں ہیں اس کو سب قبول کریں۔ انہوں نے کہا اگر سوبار بھی صدر کے خلاف مواخذے کے لیے تحریک لائیں ہم سامنا کرینگے اور ناکام کرینگے۔ انہوں نے کہا امریکہ میں یہ تحریک دو بار آئی اور ناکام ہوئی، انہوں نے کہا سپریم کورٹ ریفرنس پر جواب دینے کی پابند ہے، انہوں نے کہا سپریم کورٹ کا فیصلہ صدارتی ریفرنس کے خلاف آیا تو یہ ختم ہو جائے گا،اگر یہ فیصلہ آرڈیننس کے حق میںآیا تو یہ رہے گا، انہوں نے کہا جو مال اچھالا جاتا جو منڈیاں لگائی جاتی ہیں یہ ایک المیہ ہے، انہوں نے کہا ایک نئی حکومت پہلی بار کوئی راستہ روکنے جا رہی ہے تو رکنے دیں، انہوں نے کہا پہلی بار ہماری حکومت نے ہی کے پی میں پیسے لینے والوں کو نکالا، انہوں نے کہا آرڈیننس جاری کرنے والے کیا عارف علی پہلے صدر ہیں؟انہوں نے کہا آئین میں لکھا گیا ہے حالات کے تناظر میں آرڈیننس جاری کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا قومی ضرورت کے مطابق تمام آئینی تقاضوں پر حکومت نے آرڈینس جاری کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہناتھا کہ سینیٹ کے الیکشن کے حوالے سے ہارس ٹریڈنگ اور پیسے کا لیندین کی باتیں زدعام ہوتی ہیں ۔ سینیٹ کا تقدس کا بحال کرنے کیلئے صدارتی آرڈیننس لائے ۔ ملک کا سب سے بڑا نقصان کرپشن نے کیا ہے ۔جن ملکوں میں کرپشن ہے وہ معاشی طور پر سب سے پیچھے ہیں ۔انہوں نے کہا وزیراعظم نے ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کا عزم کیا ہے ۔ اپوزیشن کرپشن ختم کرنے اور سینیٹ الیکشن سےپیسے کے استعمال کا عنصر خاتمے پر ساتھ دے ۔ پی پی ہی اور ن لیگ کی دس دس سال حکومتیں رہیں ۔ اپوزیشن کو سینیٹ اوپن بیلٹ کے قانون کی حمایت کرنی چاھیے ۔ ادارے مفلوج ہوگئے کرپشن کے خاتمے کی طرف توجہ نہیں دی گی ۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہم تاریخ کے دورا ہے پر کھڑے ہم نے سیاست سے پیسے کا خاتمہ کریں ۔چھانگا مانگا کا کلچر ہم نے نہیں پہلے روشناس کرایا گیا ۔ سیاست سے دھونس اور پیسے کو ختم کرنا ہو گا۔ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق خان کا کہنا تھا کہ صدارتی آرڈیننس کے معاملے پر صدر کے مواخذے کی حمایت کرتے ہیں ۔ پی ٹی آئی اپنے اپ کو انقلابی کہتے تھے وزیراعظم ہفتے میں عوام کو جواب دینے کا کہتے تھے ۔ اگر فیصلےآرڈیننس سے کرنے ہیں تو پارلیمنٹ کو تالا لگا دیں ۔ پارلیمنٹ کے ایک اجلاس پر چار کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں ۔ آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ملک کے مفاد میں نہیں ہے ۔ ایم این ایز کی خرویدوفروخت پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے ۔ سیاست سے اے ٹی ایم ،پیراشوٹر اور مافیاز سے جان چھوڑائیں ۔ الیکشن کمپیئن ہیلی کاپٹر اور جہاز سےچلائیں فانانسر چلائیں گے تو حالات ایسے ہی ہونگے۔ مسلم لیگ ن کے سینیٹر آصف کرمانی نے کہا پاکستان کی تاریخ خطرناک موڑ پر آگئی ہے۔ 1973 میں ہری کتاب لکھنے والے بڑے سمجھدار اور دور اندیشی لوگ تھے۔ سنا بھی تھا دیکھا بھی تھا جو آئین کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے اسے ڈکٹیٹر کہتے ہیں، تشریح سپریم کورٹ کا حق ہے مگرتشریحتب کی جاتی ہے جب کچھ مبہم، 70، 70 کروڑ روپے دینے والا عبدالقادر کون تھا، ایک ایسا شخص جس کا دن دہاڑے الیکشن کمیشن میں جھوٹ موجود ہے اور اس کو سینیٹ کے لیے نامزد کر دیا جاتا ہے علی محمد خان جیسے لوگ پارٹی کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ مگر یہ معصوم شخص پوچھ بھی نہیں سکتا کہ حفیظ شیخ کون ہے؟۔ جسنے غریب کے منہ سے نوالہ چھینا اس کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ کل کے ضمنی الیکشن میں وہی مڈل کلاس ان کے گھر میں گھسا اور ان کے گھر میں گھس کے مارا۔ غریب اور سفید پوش طبقہ جو گھر کا چولہا نہیں جلا پا رہا اس کی کمر ہی توڑدی۔ وزیراعظم نے خود کہا کہ ان کے دوست کا نام شوگر رپورٹ میں آیا، آرٹیکل226 واضح ہے اس کی تشریح کی کوئی ضرورت نہیں تھی،۔ اگر ترجیحات نا سمجھیں گئیں تو اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے،۔حکومتی سینیٹر علی محمد خان نے کہا عمران خان نے جب 22 سال پہلے جماعت بنائی تو مجھ جیسے بہت سارے لوگوں کے ووٹ بھی نہیں بنے تھے، عمران خان کی تصویر کے نیچھے دیکھا کہ انصاف کا نظاماحتساب سر عام کا نعرہ لکھا تھا،یہی نعرہ دیکھ کر میں نے پاکستان تحریک انصاف کا انتخاب کیا،قادیانیت سے متعلق قانون میں ذوالفقار علی بھٹو کا کردار تھا،بینظیر بھٹو ضیاء الحق کے خلاف کھڑی ہوئیں جب کوئی کوئی مرد کھڑا نہیں ہو رہا تھا، بینظیر نے جاتے جاتے میثاق جمہوریت میں کردار ادا کیا،انہوں نے کہا جب ہم تکلیف سےگزرتے ہیں تو عقل ٹھکانے آجاتی ہے۔میثاق جمہوریت میں درج ہے کہ ہم نے سینیٹ کے الیکشن کو شفاف طریقے سے کروانا ہے۔میاں نواز شریف نے بھی اس میثاق جمہوریت پر دستخط کیے تھے۔کیوں عمران خان اگر اس شفافیت کو سامنے لانا چاہ رہا ہے تو اس کی مخالفت کی جا رہی ہے،۔اگر سیاست میں ایمانداری بدنیتی ہے تو یہ ہماریکمزوری ہے،۔کیوں اس بات پر اتنا زور ہے اور آخر مسئلہ کیا ہے۔کوئی بھی پاکستان کے آئین میں ترمیم نہیں کر رہا۔علی محمد نے کہا عمران خان کی مجبوری ہے وہ سیاست میں ایمانداری کو نہیں چھوڑ سکتا۔ہم چاہتے ہیں کہ سینیٹ الیکشن میں خریدو فروخت نا ہو،دعا ہے پاکستان کی سیاست میں دین کا نام لینے والے لوگ سلامت رہے۔جبیہاں سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے لوگ خریدے گئے تو مخالفت کیوں کرتے ہیں؟۔آپ تحریک چلاتے ہیں کہ عمران خان گھر چلا چائے،آرڈیننس اگر ہم لیکر تو ایوان کی بہتری کے لیے لائے۔ہم نے آرڈیننس کی فیکٹری لگائی تو آپ نے اکنامک زون بنایا ہوا تھا۔اگر ہم آرڈیننس آئین کے مطابق لا رہے ہیں تو کیا غلطی کی۔کیوں ایک شخص اپناووٹ شفاف دیتا ہے تو اس کے امین ہونے کی نشانی ہے،۔اگر ہمارے رات کے اندھیرے میں آرڈیننس پر الزام ہے تو آپ دن کے اجالے میں سب کے سامنے ووٹ دیں،جو پیسہ لگوا کے آتا ہے وہ کیسے سینیٹ کا امین ممبر ہو سکتا ہے،آئین کا آرٹیکل 62 کیا کہتا ہے ہمیں اس پر بھی تو نظر دوڑائی چاہیے۔ہم وہی بات کر رہے ہیں جو سابقوزیراعظم کہہ چکے ہیں ۔عمران خان وہی کرنا چا رہا ہے جو آپ خود بھی کرنا چاہتے تھے ۔اگر ووٹ دیا گیا ہے پیسے کہ بنیاد پر تو کیسے کوئی ایماندار ہوگا جس نے ووٹ خریدا اور بیچاکبھی تو ہم سیاستدان اکٹھے ہو جائیں تاکہ پاکستان مضبوط ہو جائے،آپ ہی رونا دھونا ڈالتے تھے کہ ہماری جماعتوں کو خریدا جاتا ہے۔اس کرپشن سے بڑیجماعتوں کے لوگ خریدے جاتے ہیں۔چار بار پیپلز پارٹی اور تین بار ن لیگ تین بار حکومت کر چکی ہے۔کبھی پیپلز پارٹی یا ن لیگ نے اپنے لوگ ہٹائے؟ ہم نے بیس لوگوں کو گھر بھیجا۔پی ٹی آئی کو سیاست میں ہارس ٹریڈنگ اور ضمیروں کی سیاست زیب نہیں دیتی ۔ن لیگ اور پیپلز پارٹی بینظیر کی آخری اور نواز شریف کی سیاسی خواہش سے پیچھے کیوں ہٹ رہے ہیں ۔بعدازاں سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا ۔

موضوعات:

اگر یہ الیکشن نیوٹرل ہو گئے

سیف اللہ ابڑو لاڑکانہ سے تعلق رکھتے ہیں‘ انجینئر ہیں اور دو کنسٹرکشن کمپنیوں کے مالک ہیں‘ آصف علی زرداری سے دوستی کی وجہ سے لاڑکانہ کے زیادہ تر ترقیاتی ٹھیکے انہیں ملتے رہے‘ اربوں روپے کمائے‘ دولت کے بعد شہرت اور اقتدار انسان کی اگلی منزل ہوتی ہیں‘ یہ بھی اقتدار میں آنا چاہتے تھے‘ 2013ءمیں پیپلز ….مزید پڑھئے‎

سیف اللہ ابڑو لاڑکانہ سے تعلق رکھتے ہیں‘ انجینئر ہیں اور دو کنسٹرکشن کمپنیوں کے مالک ہیں‘ آصف علی زرداری سے دوستی کی وجہ سے لاڑکانہ کے زیادہ تر ترقیاتی ٹھیکے انہیں ملتے رہے‘ اربوں روپے کمائے‘ دولت کے بعد شہرت اور اقتدار انسان کی اگلی منزل ہوتی ہیں‘ یہ بھی اقتدار میں آنا چاہتے تھے‘ 2013ءمیں پیپلز ….مزید پڑھئے‎



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں