36

چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کا ملک بھر کے پولیس افسروں کی ڈگریاں چیک کرنے کا حکم

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک /آن لائن) چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کاپولیس افسران کی ڈگریاں اور سرٹیفکیٹس چیک کرنے کا حکم۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی زیر صدارت پولیس ریفارمز کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس کے غیر ضروری گرفتاریوں اور غلط انفارمیشن کی بنیاد پر جھوٹی ایف آئی آرز کرنے سے روک دیا گیا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا ہےکہ ملک بھر میں آئی جیز سرکاری گاڑیوںکا غیر ضروری استعمال بھی نہ کریں ،انکا کہنا تھا کہ پولیس میں تبادلوں کا اختیارآئی جی کے پاس ہی ہونا چاہیے ۔ دوسری جانب سپریم کورٹ

میں سینیٹ انتحابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے وکیل میاں رضا ربانی نے دلائل دیتے ہوے موقف اپنایا ہے کہ سینیٹ کو تخلیق کرنے کا بنیادی مقصد فیڈرل ازم ہے،قائداعظم محمد علی جناح کے چودہ نکات میں سے چودہ نکتہ فیڈرل ازم کا تھا،سینیٹ کو قائم کرنے کا مقصد گھٹن کے ماحول کو ختم کرکے متناسب نمائندگی دینا ہے،ایسی چھوٹی سیاسی جماعتیں جن کی چار صوبائی نشستیں ہوتی ہیں انھیں بھی سینیٹ میں نمائندگی ملتی ہے،چھوٹی سیاسی جماعتوں کو فیڈرل میں اپنی بات کرنے کا موقع دینے کیلئے سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ کا تصور دیا گیا،بلوچستان اسمبلی میں تین یا چار اراکین کے باوجود دو سینیٹرز موجود ہیں،ہمیں سینیٹ کی تشکیل اور مقصدیت کو سامنے رکھنا ہو گا،پاکستان کی عوام کی اکثریت قومی اسمبلی میں ہوتی ہے،سینیٹ میں وفاق پاکستان کی نمائندگی ہوتی ہے،ہاؤس آف لارڈ اور ہاؤس آف کامن میں بھی تنازع دیکھا جا سکتا ہے،ہاؤس آف کامن کے پاس عوامی نمائندگی ہوتی ہے،ہمیں مسئلے کا حل آئین میں دیکھنا چاہیے،بل قومی اسمبلی سے پاس ہونے کے بعد سینیٹ مسترد بھی کر سکتا ہے،سینیٹ کو بل پر نوے دنوں میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے،سینیٹ میں نمائندگی صوبائی اسمبلی کی سیٹوں کے تناسب سے ہوتی ہے،یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ضروری نہیں کہ حکمران جماعت کی صوبے میں بھی حکومت ہو،وفاق میں کسی اپوزیشن جماعت کی صوبے میں حکومت ہو سکتی ہے،ہمیں آئین سازوں کے دماغ کو سمجھنا ہوگا،سیاسی جماعتوں کی متناسب نمائندگی قانون سازوں کے ذہن میں تھی،متناسب نمائندگی کے نظام کے نیچے بھی تین مختلف نظام موجود ہیں،ہر آرٹیکل میں الگ نظام سےمتعلق بتایا گیا ہے،جہاں پارٹی نمائندگی کا کہا گیا ہے وہیں سنگل قابلِ انتقال ووٹ کا بھی کہا گیا ہے،سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ کو بھی مین سٹریم نمائندگی کا حق ہے،ریفرنس میں صدر مملکت نے سوال پوچھا ہے کہ خفیہ ووٹنگ کا اطلاق سینٹ پر ہوتا ہے یا نہیں،جس پر حکومت نے ایسا تاثر دیا ہے کہ جیسے مقدمہ 184/3 کے دائرہ اختیار کا ہے۔معاملہ کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنیلارجر بینچ نے کی۔دوران سماعت وکیل الیکشن کمیشن کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے ووٹرز کے لیے تیار کردہ ضابطہ اخلاق کی کاپی جمع کروا چکے ہیں۔پیپلز پارٹی کے رہنماء میاں رضا ربانی نے دوران سماعت بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ذاتی حیثیت میں بھی پیش ہورہے ہیں۔ انہوں نے اپنے دلائل کے آغاز میں کہا کہ و پہلے جسٹس اعجاز الحسن کے اٹھاے گئے سوالات کے جواب دیں گے جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے انہیں ٹوکتے ہو ئے اپنے نام کےحروف پکار کر انہیں بتایا کہ میرا نام اعجاز الاحسن ہے اعجاز الحسن نہیں۔میاں رضا ربانی نے ایک موقع پر کہا کہ عام تاثر ہے رکن پارلیمنٹ اچھا وکیل نہیں ہوتا جس پر چیف جسٹس نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسی بات نہیں ہے، آپ اچھے وکیل ہیں،آپ تو 1994 سے سینٹ کے ممبر بھی ہیں،چیف جسٹس نیاس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی جماعت کی صوبائی اسمبلی میں دو ممبر ہوں وہ حلیف جماعتوں سے اتحاد قائم کر سکتی ہے،ہمیں متناسب نمائندگی سے متعلق بتائیں،جسٹس اعجازالاحسن نےایک موقع پر دلائل دئیے کہ ہر سیاسی جماعت کی عددی تعداد کے مطابق سینیٹ میں نمائندگی ہونی چاہیے،سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ ضروری نہیں کہ حکمران جماعت کے خلاف جائے،اتحادی جماعتوں کی اپنی طاقت ہو سکتی ہے،نظام جو بھی اپنایا جائے سینیٹ میں صوبائی اسمبلیوں میں موجود جماعتوں کی نمائندگی ہونی چاہیے،1973 کے آئین پاکستان بنتے وقت وزیر قانون نے کہا صوبائی نشستوں کی سینیٹ میں نمائندگی ہونی چاہیے،متناسب نمائندگی کا لفظ آرٹیکل 59 اور 51 میں موجود ہے،ووٹ سیکرٹ رکھنے کے پیچھے کیا منطق تھی؟جس پر میں رضا ربانی نے موقف اپنایا کہ شاید سیکرٹ اس وجہ سے رکھا گیا کہ کسی سیاسی جماعت کا صحیح تناسب نا آ سکے،اگر اصولوں پر عمل کرنا ہے تو پھر پارٹی لسٹ ہونی چاہیے تھی،پنجاب میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ کیو اتحادی ہیں،تحریک انصاف چار یا پانچ سینیٹر میں سے ایک سینیٹر ق لیگ کو دے رہی ہے،کیا تحریک انصاف کے ایک سینیٹر کم ہونے سے متناسب نمائندگی کی عکاسی ہوگی، سیاسی اتحاد خفیہ نہیں ہوتا لیکناگر انفرادی ووٹر چاہے تو اپنا ووٹ خفیہ رکھ سکتا ہے،جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک موقع پر میں رضا ربانی کو مخاطب کرتے ہو ئے کہا کہ آپ اپنی دلیل کو دوسرے انداز سے بھی بیان کر سکتے ہیں،اکثریتی جماعت دوسرے اتحادی جماعت کے صوبے سے سیٹ کا تبادلہ بھی کیا جاسکتا ہے،تحریک انصاف اور ق لیگ کا پنجاب میں ابھرتا ہوا اتحاد ہے، میں اس پر مزید بات نہیں کرسکتا،سوال یہ ہے کہ پھر اتحاد کی صورت میں سینیٹ کا ووٹ کیوں خفیہ ہوتا ہے۔بعد ازاں معاملے کی سماعت پیر 22 فروری تک کے لئے ملتوی کر دی گئی ہے۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں