42

سینیٹ الیکشن میں سیاستدانوں کو خریدنے کی منڈی لگی ہوئی ہے، وزیراعظم ایک بار پھر بول پڑے

اٹک (آن لائن) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں سیاستدانوں کو خریدنے کیلئے منڈی لگی ہوئی ہے، پٹواریوں، تھانیداروں کی کرپشن سے لوگ تنگ ہوتے ہیں لیکن اس سے ملک تباہ نہیں ہوتا ملک تب تباہ ہو تا ہے جب وزیراعظم اور وزرا کرپشن کریں، پاکستان بدقسمتی سے موسم کی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہونے والے 10 ممالک میں شامل ہے، ہم آئی ٹی کے شعبے سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے اور ٹیکنالوجی زون قائم کریں گے۔۔تفصیلات کے مطابق غازی بروتھا میں موسم بہار اور شجرکاری مہم کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے

ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ درخت آپ کے مستقبل کے لیے اتنا ضروری ہے کہ آپ کو اندازہ نہیں یہ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان بدقسمتی سے موسم کی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 ممالک میں شامل ہے اور گرین ہاؤس گیس کے اثرات کی وجہ سے دنیا میں موسم گرم ہو رہا ہے لہٰذا ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہمیں اپنے ملک میں گرم ہوتے ہوئے موسم کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ہر چیز کرنی چاہیے اور اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ پاکستان میں 10ارب درخت اگانے کا جو پروگرام ہے اس کو سب کامیاب کریں۔ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں 10 لاکھ درخت لگیں گے تو میں آپ سے وعدہ لوں گا کہ آپ نے ان درختوں کی حفاظت کرنی ہے اور ہم آپ کو کھیل کے میدان بنا کر دیں گے درخت ہمارے مستقبل کے لیے ضروری ہیں اور کھیلوں کے میدان ہمارے نوجوانوں کی صحت کے لیے ضروری ہیں، بدقسمتی سے نہ ہم نے اس ملک میں درخت لگائے، 70سال میں ہم جو انگریز جنگلات چھوڑ کر گیا تھا، وہ بھی ختم کر دیے لاہور میں پچھلے 20سالوں میں70فیصد درخت کاٹ دیے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہے کہ لاہور میں آلودگی بوڑھے اور بچوں کی صحت کے لیے نہایت خطرناک ہے اور جب تک ہم بحیثیت قوم یہ فیصلہ نہیں کریں گے کہ ہم نے اپنی تقدیر بدلنی ہے، اس وقت تک یہ خطرہ بڑھتا جائے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہاں درخت بھی لگیں گے اور ہم آپ کے لیے 10 کرکٹ گراؤنڈ بھیبنائیں گے، اگر ہم نے یہ دیکھا کہ آپ درختوں کی حفاظت نہیں کررہے ہیں تو آپ کے ایک ایک کرکٹ گراؤنڈ کم ہونا شروع ہو جائیں گے۔انہو ں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے ہر خاندان کے پاس ایک ہیلتھ انشورنس ہے جس سے وہ کسی بھی ہسپتال میں جا کر علاج کرا سکتے ہیں اور مجھے فخر ہے کہ وہ پہلا صوبہ ہے جس نے وہ کامکیا ہے کیونکہ ہم سے کئی امیر ممالک میں بھی یہ سہولت میسر نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ یونیورسل ہیلتھ کوریج پنجاب میں شروع کی جا چکی ہے اور اس سال کے آخر تک ہیلتھ انشورنس سارے پنجاب کا احاطہ کر لے گی، اس سال کے آخر تک پورے پنجاب میں بھی ہیلتھ کارڈز دے دیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم اسلام آباد سمیت چارعلاقوں میں ٹیکنالوجی زون بنا رہے ہیں اس میں کامرہ کو بھی شامل کر لیں گے کیونکہ آنے والا زمانہ مکمل طور پر ٹیکنالوجی کا ہو گا، ہم نے ٹیکنالوجی کی پہلی لہر سے فائدہ نہیں اٹھایا لیکن ہماری پوری کوشش ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا پورا فائدہ اٹھائیں اور نئی ٹیکنالوجی میں پاکستان پوری طرح شرکت کر سکے یہ ہماری پالیسی ہےجس علاقے میں کام ہو اس کے لوگوں کو نوکریاں ملنی چاہئیں اور جس بھی علاقے سے گیس یا تیل نکلتا ہے تو سب سے پہلا حق اسی کا ہوتا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ 30سال اس ملک پر جن ڈاکوؤں نے حکومت کی انہوں نے صرف پیسہ نہیں چوری کیا، انہوں نے ساتھ ساتھ ہمارے ملک کی اخلاقیات بھی تباہ کردی اور ملک میں ایسی فضابنادی کہ کرپشن کوئی بری چیز نہیں ہے، اس چیز نے اس ملک کو کرپشن سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے مجھے کوئی ایک مثال بتا دیں کہ ایک ملک خوشحال ہو اور وہاں کرپشن بھی ہو، ملک کو وزیر اعظم اور وزرا کی کرپشن تباہ کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار، نواز شریف اور ان کے بچے سب سے مہنگی گاڑی رولس رائز گاڑیوں میںسفر کرتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ یہ گوال منڈی میں نہیں بلکہ برطانیہ کے بڑے بڑے محلات میں پیدا ہوئے تھے، ایسا لگتا ہے کہ اسحاق ڈار کے باپ کی سائیکل کی نہیں بلکہ مے فیئر میں رولس رائز کی دکان تھی، یہ پیسہ کدھر سے آیا اس کا جواب ان کے پاس نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ منڈی لگی ہوئی ہے، سیاستدانوں کو خریدنے کیلئے قیمتیںلگ رہی ہیں، سب نہیں بکتے لیکن کئی بکتے ہیں اور یہ 30سال سے ہورہاہے سب کو پتہ ہے۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہو ئے وزیراعظم نے بتایا کہ اپوزیشن کی ساری جماعتیں کہہ رہی ہیں خفیہ ووٹنگ ہونی چاہیے، مینار پاکستان میں یہ فلاپ ہوگئے تو فیٹف میں بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی، ان کا خیال تھا کورونا سے حکومتبیٹھ جائے گی مگر اللہ نے کرم کیا، اب یہ سوچ رہے ہیں ہمارے لوگوں کو خرید کر وہاں آجائیں۔سال 2018 کے سینیٹ الیکشن کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے 6ایم پی ایز تھے جبکہ 17سے18ووٹ درکار تھے، 2018میں پیسہ چلاکر پی پی کے 2سینیٹرز منتخب کرائے گئے، جو سینیٹر روپیہ خرچ کرکے آئے گاوہ عوام کیلئے بات کرنے نہیں آتا، روپیہ خرچ کرکے سینیٹ میں آنیوالا عوام کا خون چوستا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ایک طرف یہ ڈاکو اور ان کا مافیا ہے مگر انشااللہ جیت پاکستان کی ہوگی، انھوں نے بیرون ملک کرپشن کے پیسے سے جائیدادیں بنائیں، قومی خزانے سے پیسہ چوری ہوتاہے تو ملک کو نقصان ہوتاہے، کرپٹ عناصر پھر سے سینیٹ الیکشن کیلئے پیسیاستعمال کرنا چاہتے ہیں۔

موضوعات:

اگر یہ الیکشن نیوٹرل ہو گئے

سیف اللہ ابڑو لاڑکانہ سے تعلق رکھتے ہیں‘ انجینئر ہیں اور دو کنسٹرکشن کمپنیوں کے مالک ہیں‘ آصف علی زرداری سے دوستی کی وجہ سے لاڑکانہ کے زیادہ تر ترقیاتی ٹھیکے انہیں ملتے رہے‘ اربوں روپے کمائے‘ دولت کے بعد شہرت اور اقتدار انسان کی اگلی منزل ہوتی ہیں‘ یہ بھی اقتدار میں آنا چاہتے تھے‘ 2013ءمیں پیپلز ….مزید پڑھئے‎

سیف اللہ ابڑو لاڑکانہ سے تعلق رکھتے ہیں‘ انجینئر ہیں اور دو کنسٹرکشن کمپنیوں کے مالک ہیں‘ آصف علی زرداری سے دوستی کی وجہ سے لاڑکانہ کے زیادہ تر ترقیاتی ٹھیکے انہیں ملتے رہے‘ اربوں روپے کمائے‘ دولت کے بعد شہرت اور اقتدار انسان کی اگلی منزل ہوتی ہیں‘ یہ بھی اقتدار میں آنا چاہتے تھے‘ 2013ءمیں پیپلز ….مزید پڑھئے‎



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں