38

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز ایڈیشن 2021 میں چیمپئن بننے کے لیے پرعزم، کرس گیل سے بڑی امیدیں وابستہ

لاہور (این این آئی)کوئٹہ گلیڈی ایٹرز ایڈیشن 2021 میں چیمپئن بننے کے لیے پرعزم ہے ۔ تفصیلات کے مطابق کوئٹہ گلیڈی ایٹر نے دوہزار بیس میںپانچویں پوزیشن،دوہزار انیس میں چمپئن ،دوہزار اٹھارہ میں چوتھی پوزیشن (ایلیمنٹر 1 میں شکست)،دوہزار سترہ میں رنرزاپ،دوہزار سولہ میں رنرزاپ رہی ۔کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو ایچ بی ایلپی ایس ایل کی تاریخ میں کامیاب ترین ٹیم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس نے ایونٹ کیابتدائی دوایڈیشنزمیں رنرزاپ رہنے کے بعد سال 2019 میں چمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا مگر ایڈیشن 2020 میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم پلے آف مرحلے میں رسائی حاصل نہیں

کرسکی تھی، یہ پہلا موقع تھا کہ جب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے فینز، کوچز اور کھلاڑیوں کو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑاتاہم بیس فرور ی سے شروع ہونے والے ایڈیشن 2021 میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کوہیڈ کوچ معین خان اور کپتان سرفراز احمد کی خدمات حاضر ہیں۔ معین خان نہ صرف ٹی ٹونٹی کرکٹ کو بخوبی سمجھتے ہیں بلکہ وہ اپنامفید تجربہ کھلاڑیوں کو منتقل کرنے کے بھی ماہر ہیں۔ وہ اپنے منصوبوں کی تکمیل میں بھی خاص عبور رکھتے ہیں۔ سرفراز احمد ٹی ٹونٹی کرکٹ فارمیٹ میں خود کو بہترین کپتان کے طور پر منوا چکے ہیں۔ بطور کپتان وہ اب تک 37 میں سے 29 میچزجیت چکے ہیں۔بیس فروری سے شروع ہونے والے ایونٹ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا سب سے اہم ہتھیار یونیورس باس یعنی کرس گیل ثابت ہوں گے۔وہ کچھ میچز کے لیے فرنچائز کو دستیاب ہیں۔ ٹی ٹونٹی کرکٹ میں ان کا ایک اپنا اسٹائل ہے، وہ ٹی ٹونٹی کرکٹ میں ایسے تمام ریکارڈز بناچکے ہیں کہ جو کسی بھی بیٹسمین کی خواہش ہوگی، ان میں میں سب سے زیادہ رنزبنانے کا ریکارڈ،13584،سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا ریکارڈ،22 ،سب سے زیادہ نصف سنچریاں بنانے کا ریکارڈ،85،ٹی ٹونٹی کرکٹ میں انفرادی حیثیت میں سب سے زیادہ اسکور،175 رنز ناٹ آؤٹ،سب سے زیادہ چھکے لگانے کا ریکارڈ،1001 اور ایک میچ میں سب سے زیادہ چھکے 18 ہیں۔یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ وہ ٹی ٹونٹیکرکٹ کے سب سے بہترین اور منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں۔کرس گیل انگلش اوپنر ٹام بنٹن کے مؤثر پارٹنر ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ ٹام بنٹن بھی اننگز کے آغازمیں تیزی سے رنز بنانے کے طور پر جانے جاتے ہیں اور وہ حال ہی میں انگلینڈ، آسٹریلیا اور ٹی ٹین لیگ میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرچکے ہیں۔جنوبی افریقہ کے فافڈوپلیسی جو لیگ کے گزشتہ ایڈیشن میں پشاور زلمی کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ انہیں اس مرتبہ کرس گیل کے کور پلیئر کی حیثیت سے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ انٹرنیشنل مصروفیات کی وجہ سے کرس گیل کچھ وقت کے لیے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو دستیاب نہیں ہوں گے۔معین خان کے بیٹے اعظم خان بھی کوئٹہ گلیڈیایٹرز کیلئے ایک آئیڈیل کرکٹر کی رکھتے ہیں، وہ وکٹوں کے آگے اور پیچھے دونوں جگہوں پر عمدہ کاکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں دیگر کھلاڑیوں میں جنوبی افریقہ کے کیمرون ڈیلپورٹ اور آسٹریلیا کے بین کٹنگ سب سے نمایاں ہیں۔بین کٹنگ نے تو گزشتہ ایڈیشن میں زبردست پاؤر ہٹنگ کرکے ثابت کیا تھا کہ وہ کسی بھی وقت میچ کاپانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔آلراؤنڈر ز کی بات کی جائے توپاکستان کے محمد نواز اور انور علی بھی کسی سے پیچھے نہیں رہتے ،ان کھلاڑیوں کے بعد یہ وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ کوئٹہ کے پاس آخری اوورز کے لیے اچھی فائر پاؤر ہے۔علاوہ ازیں، کپتان سرفراز احمد بھی اسٹرائیک ریٹ کو بہتر بنانے کی بھر پور صلاحیت رکھتےہیں،ان تجربہ کار کھلاڑیوں کے علاوہ کوئٹہ کے اسکواڈ میں نوجوان کھلاڑی صائم ایوب بھی موجود ہے، جنہوں نے انڈر 16 اور انڈر 19 میں تیزرفتار بیٹنگ کرکے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے،بائیں ہاتھ کے اسپنر آرش خان بھی نپی تلی باؤلنگ کی اہلیت رکھتے ہیں۔فاسٹ باؤلنگ کے شعبے میں محمد حسنین نے گزشتہ ایڈیشن میں 15 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ اس مرتبہ ان کے پاس ڈیل اسٹین جیسے تجربہ کار فاسٹ باؤلر سے سیکھنے کا موقع موجودہوگا۔ ان کے علاوہ سہیل خان، نسیم شاہ اور عثمان شنواری بھی اسکواڈ کا حصہ ہیں۔اسپن باؤلنگ آلراؤنڈرمحمد نواز کو افغانستان کے قیس احمد اور حال ہی میں ڈیبیو کرنے والے لیگ اسپنر زاہد محمود کا ساتھ نصیب ہوگا۔اسکواڈ میں سرفراز احمد (کپتان)، بین کٹنگ، محمد حسنین، محمد نواز، اعظم خان، نسیم شاہ، زاہد محمود، انور علی، کرس گیل، فاف ڈوپلیسی (کرس گیل کے متبادل)، ٹام بنٹن، عثمان شنواری، کیمرون ڈیلپورٹ، قیس احمد، عبدالناصر، صائم ایوب، آرش علی خان، ڈیل اسٹین اور عثمان شنواری شامل ہیں۔

موضوعات:

اگر یہ الیکشن نیوٹرل ہو گئے

سیف اللہ ابڑو لاڑکانہ سے تعلق رکھتے ہیں‘ انجینئر ہیں اور دو کنسٹرکشن کمپنیوں کے مالک ہیں‘ آصف علی زرداری سے دوستی کی وجہ سے لاڑکانہ کے زیادہ تر ترقیاتی ٹھیکے انہیں ملتے رہے‘ اربوں روپے کمائے‘ دولت کے بعد شہرت اور اقتدار انسان کی اگلی منزل ہوتی ہیں‘ یہ بھی اقتدار میں آنا چاہتے تھے‘ 2013ءمیں پیپلز ….مزید پڑھئے‎

سیف اللہ ابڑو لاڑکانہ سے تعلق رکھتے ہیں‘ انجینئر ہیں اور دو کنسٹرکشن کمپنیوں کے مالک ہیں‘ آصف علی زرداری سے دوستی کی وجہ سے لاڑکانہ کے زیادہ تر ترقیاتی ٹھیکے انہیں ملتے رہے‘ اربوں روپے کمائے‘ دولت کے بعد شہرت اور اقتدار انسان کی اگلی منزل ہوتی ہیں‘ یہ بھی اقتدار میں آنا چاہتے تھے‘ 2013ءمیں پیپلز ….مزید پڑھئے‎



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں