44

ڈالر کی قیمت مزید کم ہوگئی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کاروباری ہفتے کے چوتھے روز انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت مزیدگرگئی ، سٹیٹ بینک کے ٹوئٹر پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز انٹربینک مارکیٹ میں جب کاروبار بند ہوا توڈالرکی قیمت 159.26روپے پرتھی جبکہ آج کاروبارکے اختتام پر ڈالر کی قیمت 158.93روپے پرآ گئی ۔ اس طرح کاروباریہفتے کے چوتھے روزڈالر کی قیمت میں مزید33پیسے کی کمی ہوئی،یاد رہے کہ رواں ہفتے کے پہلے دو دنوں کے دوران ڈالر کی قیمت میں 72پیسے کا نمایاں اضافے دیکھنا میں آیا تھا،لیکن اس کے بعد سے ڈالر کی قدر میں گراوٹ دیکھی جارہی ہے ،دوسری

جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق سال 2021 میں ڈالر کرنسی کی ویلیو نہ ہونے کے برابر ہو جائے گی ،معاشی ماہرین مچ فیررسٹین نے انکشاف کیا ہے کہ یہ 2021 کی ایسی بریکنگ نیوز ہے کہ جس کی طرف ابھی تک کسی کا دھیان ہی نہیں جا رہا۔امریکہ اس وقت کئی ٹریلین ڈالر کا مقروض ہے۔زمبابوے سمیت دنیا کے کئی ممالک اپنے بینکوں سے پیسہ نکالنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔عالمی منڈی میں انتہا درجے کی مندی آ چکی ہے اور امریکہ کے قرضوں میں روز افزوں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔جیسے جیسے اس کے قرضے میں اضافہ ہو گاویسے ہی اس کی ویلیو میں کمی آتی چلے جائے گی اور آہستہ آہستہ اس کیویلیو میں ستانوے فیصد تک کمی آ جائے گی جس کے نتیجے میں دنیا میں دیگرکرنسیوںپر اس کا راج ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتا ہے۔ ماہر معاشیات فیررسٹین کا کہنا تھا کہ معاشیمنڈی کی مین اسٹریم یا پھر امریکہ میں کیا ہونے جا رہا ہے اس سے سارے بے خبر ہیں کیونکہ امریکہ کا فیڈرل ریزرو کافی عرصے بعد کم ہونا شروع ہوا ہے اور اس پر قرضے کابوجھ بڑھتاجا رہا ہے ۔دنیا کے کئی ممالک نے تجارت اور دیگر معاملات میں روایتی انحصار سے ہٹ کر آزاد پالیسیوں پر غور کرنا شروع کر دیا ہے اور دنیا کے نقشے پر ابھرتی نئی معاشی قوتوں نے بھی آہستہ آہستہ اپنے پنجے گاڑنا شروع کر دیے ہیں جس وجہ سے امریکی ڈالر کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔



کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں