22

وکلاء تنظیموں نے ملک گیر احتجاج کا عندیہ دے دیا

لاہور(این این آئی)وکلاء تنظیموں نے کہا ہے کہ اگراسلام آباد میں پیش آنے والے معاملے کو فی الفور حل نہ کیا گیا تو یہ آگ پورے ملک میں پھیلے گی اور معاملات سلجھاؤ کی بجائے مزید بیگاڑ کا شکار ہونگے،وکلاء برادری سے اپیل ہے کہ پرامن رہیں،اگر ہمارے مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو اسلام آباد کے وکلاء سے اظہار یکجہتی کیلئےملک گیر احتجاج کا آغاز کیا جائے گا،کچھ خفیہ ہاتھ وکلاء اور عدلیہ کے درمیان تصادم کو اس نہج پر لے جانا چاہتے ہیں کہ دونوں اداروں کے درمیان ایک خلیج حائل ہو جائے جو کسی صورت ملکی

مفاد میں نہیں ہے۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں پاکستان بار،سپریم کورٹ بار،پنجاب بار،لاہورہائیکور ٹ بار، لاہور بارایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس میں ممبرا ن پاکستان بار اعظم نذیر تارڑ،حفیظ الرحمن چوہدری،نائب صدر سپریم کورٹ بارمحمد ارشد باجوہ چوہدری، وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل امجد اقبال خان،صدر لاہور ہائیکورت بار چوہدری طاہر نصر اللہ وڑائچ،نائب صدر بیرسٹر چوہدری سعید حسین ناگرہ،سیکرٹری بیرسٹرہارون دوگل، سیکرٹری فنانس ذیشان غنی سلہریا،صدر لاہوربار ملک سرود احمد صدر،سیکرٹری مدثر بٹ،جنرل سیکرٹری احمد سعد خان سمیت دیگر بھی موجود تھے۔مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ اسلام آباد میں پیش آنے والا واقع انتہائی ناخوشگوار اور وکلاء برادری کیلئے تکلیف دہ ہے لیکن اصل حقائق سامنے لانے کے بغیر ہی وکلاء کو ہی مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے قیام کے وقت ہائیکورٹ کیلئے کوئی عمارت دستیاب نہ تھی جس وجہ سے نو تعمیر شدہ ڈسٹرکٹ کمپلیکس کو ہائیکورٹ کیلئےمختص کر دیا گیا جبکہ ڈسڑکٹ کورٹس اپنی عمارت سے محروم رہنے کی وجہ سے F/8مرکز میں قائم رہنے پر مجبور رہیں۔ جہاں پر نا ہی صرف وکلاء بلکہ سائلین کیلئے بھی سہولیات نہ تھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ وکلاء چیمبرز اور سائلین کی سہولت کیلئے کچھ تعمیرات ہوتی رہیں۔ عہدیداروں نے کہا کہ موجودہ واقعہ سے قبل بھی صرف تینچیمبرز کی تعمیر پر انتظامیہ نے اعتراض کیا اور ان کی مسماری کا فیصلہ ہوا مگر بغیر کسی نوٹس کے 63سے زائد وکلاء چیمبرز کو رات کی تاریکی میں مسمار کر دیا گیا جس میں وکلاء صاحبان اور انکے سائلین کی قیمتی دستاویزات کے ساتھ ساتھ دیگر سامان بھی تباہ و برباد ہو گیا۔ اس ریاستی دہشتگردی پر سراپا احتجاج وکلاء اسلامآباد ہائیکورٹ اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے گئے اور چند جذباتی وکلاء نے قانونی احتجاج کی حد پار کی۔ وکلاء رہنماؤں نے کہا کہ اس واقعہ کو بنیاد بنا کر ساری وکلاء کمیونٹی کو نشانہ بنایا گیا اور بالخصوص اسلام آباد کے وکلاء کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کر کے انتقامی کارائیوں کی حد کر دی گئی۔ کئی معصوم اور بےگناہ وکلاء کو بھی بغیر جواز گرفتار کیا گیا جبکہ چند بزرگ وکلاء کو یہ کہ کر ڈسچارج کرا دیا گیا کہ یہ غلطی سے گرفتار ہو گئے تھے۔ وکلاء کی اعلیٰ تنظیموں نے نا صرف چیف جسٹس آف پاکستان بلکہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی مثبت مذاکرات کیلئے ہاتھ بڑھایا لیکن کوئی خاطر خواہ جواب نہ دیا گیا۔ وکلاء اور عدلیہ کےدرمیان اس تصادم کو کچھ خفیہ ہاتھ اس نہج پر لے جانا چاہتے ہیں کہ دونوں اداروں کے درمیان ایک خلیج حائل ہو جائے جو کسی صورت ملکی مفاد میں نہیں ہے۔ وکلاء رہنماؤں نے چیف جسٹس پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملہ کے حل کیلئے بار اور بنچ کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو کہ اس بابت مفصلرپورٹ پیش کرے۔ اس دوران نا صرف وکلاء کی گرفتاری اور چھاپوں کا سلسلہ روکا جائے بلکہ گرفتار وکلاء کو ضمانتوں پر رہا کیا جائے۔ وکلاء رہنماؤں نے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ اگر اس معاملہ کو فی الفور حل نہ کیا گیا تو یہ آگ پورے ملک میں پھیلے گی اور معاملات سلجھاؤ کی بجائے مزید بگاڑ کا شکار ہونگے۔ وکلاء رہنماؤں نے وکلاء برادری سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر ہمارے مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو اسلام آباد کے وکلاء سے اظہار یکجہتی کیلئے ملک گیر احتجاج کا آغاز کیا جائیگا۔

موضوعات:

اگر یہ الیکشن نیوٹرل ہو گئے

سیف اللہ ابڑو لاڑکانہ سے تعلق رکھتے ہیں‘ انجینئر ہیں اور دو کنسٹرکشن کمپنیوں کے مالک ہیں‘ آصف علی زرداری سے دوستی کی وجہ سے لاڑکانہ کے زیادہ تر ترقیاتی ٹھیکے انہیں ملتے رہے‘ اربوں روپے کمائے‘ دولت کے بعد شہرت اور اقتدار انسان کی اگلی منزل ہوتی ہیں‘ یہ بھی اقتدار میں آنا چاہتے تھے‘ 2013ءمیں پیپلز ….مزید پڑھئے‎

سیف اللہ ابڑو لاڑکانہ سے تعلق رکھتے ہیں‘ انجینئر ہیں اور دو کنسٹرکشن کمپنیوں کے مالک ہیں‘ آصف علی زرداری سے دوستی کی وجہ سے لاڑکانہ کے زیادہ تر ترقیاتی ٹھیکے انہیں ملتے رہے‘ اربوں روپے کمائے‘ دولت کے بعد شہرت اور اقتدار انسان کی اگلی منزل ہوتی ہیں‘ یہ بھی اقتدار میں آنا چاہتے تھے‘ 2013ءمیں پیپلز ….مزید پڑھئے‎



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں